عنوان: غلطی سے مامی کا دودھ پینے سے بھی رضاعت ثابت ہو جاتی ہے(105454-No)

سوال: محترم مفتی صاحب ! السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ، مفتی صاحب ! مامی نے پمپ کے ذریعے اپنا دودھ اپنے بچے کے لئے نکال کر فیڈر میں ڈالا اور وہ دودھ چھوٹے بھانجے نے فیڈر کو منہ لگا کر پی لیا ، اب کیا شریعی حکم ہوگا؟ رہنمائی فرمائیں۔

جواب: صورت مسئولہ میں اگر بھانجے نے مدتِ رضاعت (جو کہ احتیاطاً ڈھائی سال ہے) کے اندر مامی کا دودھ پیا ہے، تو مامی کا دودھ فیڈر کے ذریعے پینے سے بھی حرمت رضاعت ثابت ہو جائے گی، اور یہ مامی اس کی رضاعی ماں بن جائے گی، لیکن اگر اس کی عمر ڈھائی سال سے زیادہ ہے، تو دودھ پینا حرمت رضاعت کا سبب نہیں بنے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کذا فی الھدایہ:
قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: لا رضاع بعد حولین۔
( ج:2 ص329 کتاب الرضاع)

کذا فی المؤطا لامام محمد:
وکان أبوحنیفۃ یحتاط بستۃ أشہر بعد الحولین فیقول: یحرم ما کان في الحولین وبعدہا إلی تمام ستۃ أشہر، وذٰلک ثلاثون شہرًا، ولا یحرم ما کان بعد ذٰلک، ونحن لا نریٰ أنہ یحرم، ونریٰ أنہ لا یحرم ما کان بعد الحولین۔
(باب الرضاعۃ، 276)

کذا فی الشامیۃ:
لو استغني في حولین حل الإرضاع بعدہا إلی نصف ولا تأثم… ومستحب إلی حولین وجائز إلی حولین ونصف۔
(شامي ج:3 ص:211 کراچی)

کذا فی الفتاوی الھندیۃ:
قلیل الرضاع وکثیرہ سواء عندنا۔۔۔۔۔۔۔۔ كما يحصل الرضاع بالمص من الثدي يحصل بالصب والسعوط والوجور كذا في فتاوى قاضي خان ۔
(ج:1ص:344)

کذا فی فتاویٰ رحیمیہ (ج:8 ص:249 ط:دارالاشاعت)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 562
ghalti say mami ka dodh pinay say bhi razaaat saabit hojati hai

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Fosterage

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com