عنوان: تحریر کی شروع میں بسم اللہ کی جگہ ٧٨٦ لکھنے کا شرعی حکم(105597-No)

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین درج ذیل مسئلے میں کہ خطوط میں جو ابجد سے بسم اللہ لکھی ہوتی ہے، یہ کس کی ایجاد ہے؟اور ایسا کب ہوا؟ اور عدد سے پورے بسم اللہ کا ثواب وبرکت حاصل ہوگی؟

جواب: تحریر کی ابتداء میں "بسم اللہ الرحمن الرحیم" لکھنا مسنون ہے، لیکن یہ بات کسی مستند کتاب میں نظر نہیں آئی کہ بسم اللہ کی جگہ ٧٨٦ کا عدد استعمال کب سے لکھا جانا شروع ہوا، لیکن اس کی وجہ غالبا یہ ہے کہ بسم اللہ لکھا ہوا کاغذ کسی بے حرمتی کی جگہ استعمال ہوگا تو اس لیے بے ادبی ہوگی، لہذا اگر کوئی شخص اس خیال سے زبان سے بسم اللہ پڑھ کر یہ عدد لکھ دے تو سنت ادا ہوجائے گی، لیکن افضل یہی معلوم ہوتا ہے کہ بسم اللہ ہی لکھی جائے، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کافر بادشاہوں کو جو خطوط روانہ فرمائے، ان میں بھی بسم اللہ درج تھی۔ ظاہر ہے کہ کفار کے پاس بے حرمتی کا احتمال مسلمانوں کے مقابلے میں زیادہ تھا، مگر اس کی وجہ سے بسم اللہ لکھنا نہیں چھوڑا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

كذا في صحيح البخاري :

ﻗﺎﻝ ﺃﺑﻮ ﺳﻔﻴﺎﻥ: ﺛﻢ ﺩﻋﺎ ﺑﻜﺘﺎﺏ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ، ﻓﻘﺮﺉ، ﻓﺈﺫا ﻓﻴﻪ: " ﺑﺴﻢ اﻟﻠﻪ اﻟﺮحمن اﻟﺮﺣﻴﻢ، ﻣﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﻭﺭﺳﻮﻟﻪ، ﺇﻟﻰ ﻫﺮﻗﻞ ﻋﻈﻴﻢ اﻟﺮﻭﻡ، ﺳﻼﻡ ﻋﻠﻰ ﻣﻦ اﺗﺒﻊ اﻟﻬﺪﻯ، ﺃﻣﺎ ﺑﻌﺪ: ﻓﺈﻧﻲ ﺃﺩﻋﻮﻙ ﺑﺪﻋﺎﻳﺔ اﻹﺳﻼﻡ، ﺃﺳﻠﻢ ﺗﺴﻠﻢ، ﻭﺃﺳﻠﻢ ﻳﺆﺗﻚ اﻟﻠﻪ ﺃﺟﺮﻙ ﻣﺮﺗﻴﻦ، ﻓﺈﻥ ﺗﻮﻟﻴﺖ، ﻓﻌﻠﻴﻚ ﺇﺛﻢ اﻷﺭﻳﺴﻴﻴﻦ ﻭ: {ﻳﺎ ﺃﻫﻞ اﻟﻜﺘﺎﺏ ﺗﻌﺎﻟﻮا ﺇﻟﻰ ﻛﻠﻤﺔ ﺳﻮاء ﺑﻴﻨﻨﺎ ﻭﺑﻴﻨﻜﻢ، ﺃﻻ ﻧﻌﺒﺪ ﺇﻻ اﻟﻠﻪ ﻭﻻ ﻧﺸﺮﻙ ﺑﻪ ﺷﻴﺌﺎ، ﻭﻻ ﻳﺘﺨﺬ ﺑﻌﻀﻨﺎ ﺑﻌﻀﺎ ﺃﺭﺑﺎﺑﺎ ﻣﻦ ﺩﻭﻥ اﻟﻠﻪ، ﻓﺈﻥ ﺗﻮﻟﻮا، ﻓﻘﻮﻟﻮا اﺷﻬﺪﻭا ﺑﺄﻧﺎ ﻣﺴﻠﻤﻮﻥ} [ ﺁﻝ ﻋﻤﺮاﻥ: 64] "، ﻗﺎﻝ ﺃﺑﻮ ﺳﻔﻴﺎﻥ: ﻓﻠﻤﺎ ﺃﻥ ﻗﻀﻰ ﻣﻘﺎﻟﺘﻪ، ﻋﻠﺖ ﺃﺻﻮاﺕ اﻟﺬﻳﻦ ﺣﻮﻟﻪ ﻣﻦ ﻋﻈﻤﺎء اﻟﺮﻭﻡ، ﻭﻛﺜﺮ ﻟﻐﻄﻬﻢ، ﻓﻼ ﺃﺩﺭﻱ ﻣﺎﺫا ﻗﺎﻟﻮا.

(رقم الحديث : 2941، ط : دار طوق النجاة)

کذا فی فتاوی عثمانی ، ج : 1، ص : 144

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Print Full Screen Views: 677
tehreer ki shuru mai bisillah ki 786 likhnay ka shar'ee hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Miscellaneous

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.