سوال:
مفتی صاحب ! سب سے افضل استغفار بتادیجیے۔
جواب: امام بخاری نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں "باب افضل الاستغفار" کے تحت مندرجہ ذیل استغفار ذکر کیا ہے:
اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي، لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَاصَنَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَىَّ وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي، فاغْفِرْ لِي، فَإِنَّهُ لاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ.
ترجمہ: ” اے اللہ ! تو ہی میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو نے ہی مجھے پیدا فرمایا اور میں تیرا ہی بندہ ہوں، میں اپنی استطاعت کے مطابق تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں، میں اپنے عمل وکردار کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، میرے اوپر تیری جو بھی نعمتیں ہیں، آپ کے سامنے ان کا اقرار کرتا ہوں، اور میں اپنے گناہوں کا بھی اعتراف کرتا ہوں، پس تو مجھے معاف کردے، تیرے سوا گناہوں کو معاف کرنے والا اور کوئی نہیں ہے۔
(صحیح بخاری، باب افضل الاستغفار، حدیث نمبر: 6306)
فضیلت: جو شخص یہ کلمات دن میں دل کے یقین کے ساتھ پڑھے اور شام ہونے سے پہلے اسے موت آجائے تو وہ جنتی ہے اور جو شخص رات کو پڑھے، پھر صبح ہونے سے پہلے اسے موت آجائے تو وہ جنتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
صحیح البخاری: (باب افضل الاستغفار، رقم الحدیث: 6306، ط: دار الکتب العلمیة)
حدثنا أبو معمر حدثنا عبد الوارث حدثنا الحسين حدثنا عبد الله بن بريدة حدثني بشير بن كعب العدوي قال حدثني شداد بن أوس رضي الله عنه : عن النبي صلى الله عليه و سلم ( سيد الاستغفار أن تقول اللهم أنت ربي لا إله إلا أنت خلقتني وأنا عبدك وأنا على عهدك ووعدك ما استطعت أعوذ بك من شر ما صنعت أبوء لك بنعمتك علي وأبوء لك بذنبي فاغفر لي فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت . قال ومن قالها من النهار موقنا بها فمات من يومه قبل أن يمسي فهو من أهل الجنة ومن قالها من الليل وهو موقن بها فمات قبل أن يصبح فهو من أهل الجنة )
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی