عنوان: کیا ایک مرد اور ایک عورت گواہ کی موجودگی میں‌ نکاح منعقد ہو جاتا ہے؟(105785-No)

سوال: ایک بالغ لڑکی اور ایک بالغ لڑکا دونوں موبائل فون پر بات کرتے ہیں اور دونوں کی رضامندی سے دونوں نکاح کر لیتے ہیں، گواہ کے طور پر لڑکی کے پاس ایک دوسری اس کے ماموں کی لڑکی ہوتی ہے، جبکہ لڑکے کے ساتھ بھی ایک لڑکا ہوتا ہے اور سب کے سب بالغ ہیں تو کیا ایسی صورت میں نکاح منعقد ہوا یا نہیں؟

جواب: نکاح منعقد ہونے کے لیے دولہا و دلہن کی جانب سے ایجاب و قبول کرتے وقت ایک ہی مجلسِ عقد میں شرعی گواہوں (دو عاقل، بالغ مسلمان مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں) کا موجود ہونا شرعاً ضروری ہوتا ہے۔

آپ کے سوال میں مذکور مجلسِ نکاح میں ایک لڑکا اور ایک لڑکی گواہ کے طور پر موجود تھے، لہذا گواہوں کی شرط پوری نہ ہونے اور مجلسِ عقد کے ایک نہ ہونے کی وجہ سے یہ نکاح منعقد نہیں ہوا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کذا فی الدر مع شرح تنوير الأبصار:

(و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا) على الأصح (فاهمين) أنه نكاح على المذهب.

(كتاب النكاح، ج1، ص178، سعید کراچی)


کذا فی الھدایۃ:

ولا ينعقد نکاح المسلمين الا بحضور شاهدين.

(ج1، ص273، رحمانیہ)


واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

(مزید سوالات و جوابات کیلئے ملاحظہ فرمائیں)
http://AlikhlasOnline.com

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah

28 Nov 2020
11 Rabi Al-Akhar 1442

Copyright © AlIkhalsonline 2020. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com