سوال:
مفتی صاحب ! حضور اکرم ﷺ سے مریض کی عیادت کے وقت کون سی دعا پڑھنا ثابت ہے؟
جواب: جب کسی مریض کی عیادت کریں تو یہ دعا پڑھیں:
(1) لاَ بَأْسَ، طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ
ترجمہ:فکر کی کوئی بات نہیں ، اگر اللہ نے چاہا (یہ بیماری تم کو ) گناہوں سے پاک کرنے والی ہوگی۔
(صحیح بخاری، باب ما یقال للمریض وما یجیب، حدیث نمبر: 5662)
یہ دعا بھی پڑھ سکتے ہیں:
(2)اَذْھِبِ الْبَأسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِ اَنْتَ الشَّافِی لاَ شِفَاءَ اِلاَّ شِفَاؤُکَ شِفَاءً لاَ یُغَادِرُ سَقَمًا
ترجمہ:اے تمام انسانوں کے پروردگار ! تکلیف دور فرمادیجئے، شفاء عطا فرمائیے، آپ ہی شفاء دینے والے ہیں، آپ کے سوا کوئی شفاء نہیں دے سکتا، ایسی شفاء دیجیئے جو بیماری کا کوئی حصہ نہ چھوڑے۔
(صحیح مسلم، باب استحباب رقیۃ المریض، حدیث نمبر: 5707)
یہ دعا پڑھنا بھی ثابت ہے۔
(3) اَللّٰهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ يَنْكَأُ لَكَ عَدُوًّا، أَوْ يَمْشِي لَكَ إِلَى جَنَازَةٍ
اے اللہ ! اپنے بندے کو شفا عطا فرما کہ وہ تیری خاطر تیرے دشمن کو تکلیف پہنچائے یا تیری خوشی کی خاطر جنازہ کی طرف چلے۔
(سنن ابی داؤد، بَابُ الدُّعَاءِ لِلْمَرِيضِ عِنْدَ الْعِيَادَةِ، حدیث نمبر: 3107)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
صحیح البخاری: (باب ما یقال للمریض و ما یجیب، رقم الحدیث: 5662، ط: دار الکتب العلمیة)
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ يَعُودُهُ ، فَقَالَ : لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَقَالَ : كَلَّا بَلْ حُمَّى تَفُورُ عَلَى شَيْخٍ كَبِيرٍ ، كَيْمَا تُزِيرَهُ الْقُبُورَ ، قَالَ : النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَعَمْ إِذًا.
صحیح مسلم: (باب استحباب رقیة المریض، رقم الحدیث: 5707)
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ زُهَيْرٌ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَكَى مِنَّا إِنْسَانٌ مَسَحَهُ بِيَمِينِهِ ثُمَّ قَالَ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا فَلَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَقُلَ أَخَذْتُ بِيَدِهِ لِأَصْنَعَ بِهِ نَحْوَ مَا كَانَ يَصْنَعُ فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ يَدِي ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَاجْعَلْنِي مَعَ الرَّفِيقِ الْأَعْلَى قَالَتْ فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ فَإِذَا هُوَ قَدْ قَضَى
سنن ابی داؤد: (بَابُ الدُّعَاءِ لِلْمَرِيضِ عِنْدَ الْعِيَادَةِ، رقم الحديث: 3107، ط: دار ابن حزم)
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حُيَيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنِ ابْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا جَاءَ الرَّجُلُ يَعُودُ مَرِيضًا، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ يَنْكَأُ لَكَ عَدُوًّا، أَوْ يَمْشِي لَكَ إِلَى جَنَازَةٍ "، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَقَالَ ابْنُ السَّرْحِ: إِلَى صَلَاةٍ
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی