عنوان: ایک کام کی دو دفعہ قسم کھا کر توڑنے سے ایک ہی کفارہ واجب ہوگا(5807-No)

سوال: مفتی صاحب! سوال یہ ہے کہ میں نے ایک کام کے بارے میں قسم کھائی تھی کہ آئندہ میں یہ کام نہیں کروں گا اور پھر دوسرے موقع پر دوبارہ میں نے وہی قسم کھائی، لیکن وہ کام میں نے ابھی تک کیا نہیں تھا، پھر اس کے بعد میں نے وہ کام کرلیا تھا، تو کیا میرے ذمہ ایک کفارہ ادا کرنا کافی ہے، یا دو ادا کرنا ہوں گے؟

جواب: واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی کام کے بارے میں قسم کھائے کہ میں یہ کام آئندہ کبھی نہیں کروں گا، اور کام کرنے سے پہلے وہی قسم دوبارہ کھائے، اور پھر وہ کام کرلے، تو اس کی قسم ٹوٹ جائے گی، اور اس کے ذمہ ایک ہی کفارہ ادا کرنا واجب ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الھندیة: (56/2، ط: دار الفکر)

إذا حلف الرجل على أمر لا يفعله أبدا ثم حلف في ذلك المجلس ومجلس آخر لا أفعله أبدا ثم فعله كانت عليه كفارة يمينين۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 539
aik kaam / kam ki do / two dafa qasam kha kar torne / toorney se / sey aik he kaffara / kafara wajib / waajib hoga

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Ruling of Oath & Vows

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.