عنوان: چار مختلف قسمیں توڑنے کی صورت میں چار کفارے واجب ہوں گے(105811-No)

سوال: مفتی صاحب! میں نے مختلف موقعوں پر مختلف چار قسمیں کھائی تھیں کہ بخدا میں یہ کام نہیں کروں گا، یا میں یہ کام ضرور کروں گا، لیکن میں چاروں قسموں میں سے ایک قسم بھی پوری نہ کرسکا، اور مجھ سے چاروں ٹوٹ گئیں، اب سوال یہ ہے کہ کیا میرے ذمہ چار قسموں کا ایک ہی کفارہ ادا کرنا واجب ہے، یا چار کفارے ادا کرنا ضروری ہیں؟

جواب: واضح رہے کہ ہر قسم کے بدلے ایک کفارہ واجب ہوتا ہے، لہذا آپ کے ذمہ مختلف موقعوں پر کھائی ہوئی مختلف چار قسمیں توڑنے کی وجہ سے چار کفارے ادا کرنا لازم ہے، اور ہر قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلائیں، یا دس مسکینوں میں سے ہر ایک کو ایک ایک جوڑا کپڑا پہنائیں، اور اگر اس کی طاقت نہ ہو، تو تین دن کے مسلسل روزے رکھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی البحر الرائق:

ويتعدد اليمين بتعدد الاسم لكن يشترط تخلل حرف القسم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وفي التجريد عن أبي حنيفة إذا حلف بأيمان فعليه لكل يمين كفارة والمجلس والمجالس سواء۔

(ج: 4، ص: 316، ط: دار الکتاب الاسلامی)۔


واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

(مزید سوالات و جوابات کیلئے ملاحظہ فرمائیں)
http://AlikhlasOnline.com

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Ruling of Oath & Vows

28 Nov 2020
11 Rabi Al-Akhar 1442

Copyright © AlIkhalsonline 2020. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com