سوال:
مفتی صاحب ! رات کو تہجد کے وقت کی کوئی دعا بتادیں۔
جواب: حضور اکرم ﷺجب تہجد کے لیے اٹھتے تو یہ دعا پڑھتے:
اَللَّهمَّ لَكَ الحَمدُ أنتَ نُورُ السَّمواتِ وَالأَرضِ وَمَن فِيهِنَّ ، ولَكَ الحَمدُ أنتَ قَيِّمُ السَّمواتِ وَالأَرضِ وَمَن فِيهِنَّ، ولَكَ الحَمدُ، أنتَ الحَقُّ، وَوَعدُكَ حقٌّ، وَقَولُكَ حَقُّ، وَلِقَاؤُکَ حَقُّ، وَالجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، والسَّاعَةُ حَقٌّ، والنَّبِيُّونَ حَقٌّ، ومُحَمَّدٌ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لكَ أسْلَمْتُ، وعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وبِكَ آمَنتُ، وإلَيْكَ أنَبْتُ، وبِكَ خَاصَمْتُ، وإلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لي ما قَدَّمْتُ وما أخَّرْتُ، وما أسْرَرْتُ وما أعْلَنْتُ، أنْتَ المُقَدِّمُ، وأَنْتَ المُؤَخِّرُ، لا إلَهَ إلَّا أنْتَ.
ترجمہ: اے اللہ ! تمام تعریفیں آپ ہی کے لیے ہیں، آپ آسمانوں، زمین اور ان کی مخلوقات کا نور ہیں، اور آپ کے لیے ہی تمام تعریفیں ہیں، آپ آسمانوں اور زمین اور ان کی مخلوقات کو وجود و بقا بخشنے والے ہیں، اور آپ کے لیے ہی تمام تعریفیں ہیں، آپ حق ہیں، اور آپ کا وعدہ حق ہے، اور آپ کی بات حق ہے، اور آپ کی ملاقات حق ہے، اور جنت حق ہے، اور دوزخ حق ہے، اور قیامت حق ہے، اور نبی حق ہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم حق ہیں، اے اللہ ! میں نے آپ ہی کی اطاعت کی، اور آپ پر ہی بھروسہ کیا ہے، اور آپ ہی پر ایمان لایا، اور آپ ہی کی طرف رجوع کیا، اور آپ ہی کی مدد سے (اپنے مخالفین کا) مقابلہ کیا، اور آپ ہی کو فیصلہ سونپا، پس معاف فرمادیجیے میرا ہر وہ گناہ جو میں نے پہلے کیا ہو یا بعد میں، جو میں نے خفیہ طریقے پر کیا ہو یا علانیہ، آپ ہی آگے کرنے والے ہیں اور آپ ہی پیچھے کرنے والے ہیں، آپ کے سوا کوئی معبود نہیں۔
(صحیح بخاری، باب الدعاء اذا انتبہ باللیل، حدیث نمبر: 6318)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
صحیح البخاری: (باب الدعاء اذا انتبه باللیل، رقم الحدیث: 6318، ط: دار الکتب العلمیة)
عن ابن عباس كانَ النبيُّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ إذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَتَهَجَّدُ قالَ: اللَّهمَّ لَكَ الحَمدُ أنتَ نُورُ السَّمواتِ وَالأَرضِ وَمَن فِيهِنَّ ، ولَكَ الحَمدُ أنتَ قَيِّمُ السَّمواتِ وَالأَرضِ وَمَن فِيهِنَّ، ولَكَ الحَمدُ، أنتَ الحَقُّ، وَوَعدُكَ حقٌّ، وَقَولُكَ حَقُّ، وَلِقَاؤُکَ حَقُّ، وَالجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، والسَّاعَةُ حَقٌّ، والنَّبِيُّونَ حَقٌّ، ومُحَمَّدٌ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لكَ أسْلَمْتُ، وعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وبِكَ آمَنتُ، وإلَيْكَ أنَبْتُ، وبِكَ خَاصَمْتُ، وإلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لي ما قَدَّمْتُ وما أخَّرْتُ، وما أسْرَرْتُ وما أعْلَنْتُ، أنْتَ المُقَدِّمُ، وأَنْتَ المُؤَخِّرُ، لا إلَهَ إلَّا أنْتَ أوْ: لا إلَهَ غَيْرُكَ .
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی