سوال:
مفتی صاحب ! جب کسی کو قرض اتارنے کی فکر اور ٹینشن ہو، تو کس دعا کا اہتمام کرنا چاہیے؟
جواب: جب کسی پر قرض چڑھ جائے اور اسے ادا کرنے کی فکر ہو، تو یہ دعا پڑھے:
اللَّهُمَّ إنِّي أعُوذُ بكَ مِنَ الهَمِّ والحَزَنِ، والعَجْزِ والكَسَلِ، والجُبْنِ والبُخْلِ، وضَلَعِ الدَّيْنِ، وغَلَبَةِ الرِّجالِ.
ترجمہ: اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں فکر اور غم سے، عاجزی اور کاہلی سے، بزدلی اور بخل سے، قرض کے دباؤ اور لوگوں کے غلبے سے۔
(صحیح بخاری، رقم الحدیث 6369، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
صحیح البخاری: (رقم الحدیث: 6369، ط: دار الکتب العلمیۃ)
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا سليمان ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ ، وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ، وَالْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ، وَالْبُخْلِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی