سوال:
مفتی صاحب! ماضی میں پیش آنے والی مصیبت یاد آرہی ہو تو کیا دعا پڑھنی چاہیے؟
جواب: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’جسے کوئی مصیبت آئی (بعد میں) پھر اسے وہ مصیبت (دوبارہ) یاد آئی تو اس نے نئے سرے سے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (ترجمہ: بیشک ہم اللہ ہی کے لیےہیں اورہم اللہ ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں) پڑھ لیا، اگرچہ اس کو گزرے طویل عرصہ گزر گیا ہو، اللہ تعالیٰ اس کے لئے اتنا ہی ثواب لکھے گا جتنا (اس دن ملا تھا) جس دن مصیبت آئی تھی۔ (سنن ابن ماجه، حدیث نمبر:1600)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
سنن لابن ماجة: (رقم الحدیث: كِتَابُ الْجَنَائِزِ، بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ عَلَى الْمُصِيبَةِ، ط: دارالجیل)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهَا، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أُصِيبَ بِمُصِيبَةٍ، فَذَكَرَ مُصِيبَتَهُ، فَأَحْدَثَ اسْتِرْجَاعًا، وَإِنْ تَقَادَمَ عَهْدُهَا، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلَهُ يَوْمَ أُصِيبَ»
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی