عنوان: کیا بچے کو کسی دوسری عورت سے دودھ پلانے سے اس عورت کے اثرات بچے میں منتقل ہوتے ہیں؟(106212-No)

سوال: اگر ایک عورت دوسری عورت کے بچے کو دودھ پلائے، تو کیا دودھ پلانے سے اس عورت کی عادات اس بچے میں آتی ہیں؟

جواب: جی ہاں! جو عورت کسی بچے کو دودھ پلائے، تو اس عورت کی اچھی اور بری عادات کا اثر بچے پر بھی ہوتا ہے، اسی لئے حدیث شریف میں بیوقوف عورت کا دودھ پلانے سے منع کیا گیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کذا فی السنن الکبری للبیہقی:

نہی رسول اللہ ﷺأن تسترضع الحمقاء فان اللبن یشبہ۔

(باب ماورد فی اللبن یشبہ علیہ، حدیث نمبر:16099)

کما فی البحر الرائق:

ینبغي للرجل أن یدخل ولدہ إلی الحمقاء یعرض ولدہ للھلاک، بسبب قلۃ حفظھالہ، وتعھدھا، او لسوء الادب، فانھا لاتحسن تادیبہ فینشأ الولد سیء الادب (وقولہ اللبن یعدی) یحتمل ان الحمقاء لا تحتمی من الاشیاء الضارۃ للولد، فیؤثر فی لبنھا، فیضر بالصبی۔

(ج:3، ص:387، کتاب الرضاع، ط: رشیدیہ)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 308
kia bachay ko kisi doosri orat say dodh pila say us orat kay asraat bachy mai muntaqil hotay hain?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Fosterage

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com