عنوان: کیا غیر حاجی شخص سے حج بدل کراسکتے ہیں؟(106263-No)

سوال: میرے بڑے بھائی کا انتقال ہوا ہے اور انہوں نے اپنی طرف سے حج بدل کرانے کی وصیت کی تھی، اور چھوٹا بھائی ان کی طرف سے حج بدل کرنا چاہتا ہے، لیکن اس نے ابھی تک حج نہیں کیا ہے، تو سوال یہ ہے کیا چھوٹا بھائی حج بدل کے لئے جاسکتا ہے یا کسی حاجی شخص کو حج بدل کے لیے بھیجنا ضروری ہے؟

جواب: واضح رہے کہ حج بدل کرانے کے لئے اولیٰ اور بہتر یہ ہے کہ ایسے شخص سے حج بدل کرایا جائے، جو پہلے اپنا حج ادا کرچکا ہو، لہذا ایسے شخص سے حج بدل کرانا، جس نے پہلے اپنا حج ادا نہ کیا ہو، مکروہ تنزیہی (خلاف اولی) ہے، البتہ اگر ایسا شخص حج بدل کر لے، تو حج بدل ادا ہو جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی الھندیۃ:

والأفضل للإنسان إذا أراد أن يحج رجلا عن نفسه أن يحج رجلا قد حج عن نفسه، ومع هذا لو أحج رجلا لم يحج عن نفسه حجة الإسلام يجوز عندنا وسقط الحج عن الآمر، كذا في المحيط وفي الكرماني الأفضل أن يكون عالما بطريق الحج وأفعاله، ويكون حرا عاقلا بالغا، كذا في غاية السروجي شرح الهداية

(ج: 1، ص: 257، ط: دار الفکر)


واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 285
kia gair haaji shakhs say hajj e badal kara saktay hain ?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Hajj (Pilgrimage)

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com