عنوان: حاجیوں کا استقبال کرنے کا حکم(6346-No)

سوال: جب کسی کے رشتہ دار حج کرکے لوٹتے ہیں، تو لوگ ان کے استقبال کے لئے اسٹیشن پر جاتے ہیں، سوال یہ ہے کہ حاجیوں کا استقبال کرنے کا کیا حکم ہے، یہ کوئی رسم ہے یا اس کی شریعت میں کوئی بنیاد موجود ہے؟

جواب: حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث منقول ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا "جب تم کسی حاجی سے ملو، تو سلام کرو، اس سے مصافحہ کرو اور اپنے لئے دعائے مغفرت کراؤ، اس سے پہلے کہ گھر پہنچ جائے، بے شک وہ بخشے ہوئے ہیں"، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حاجیوں کا استقبال کرنا باعث ثواب ہے۔
اور حضرت حسن سے روایت ہے کہ جب حاجی حج کے لئے روانہ ہوں، تو ان کو وداع ( چھوڑنے کے لئےجاؤ اور دعائے خیر کے لئے ان سے تلقین (درخواست) کرو اور جب حج سے آئیں، تو ان سے ملو اور مصافحہ کرو، قبل اس کے کہ دنیاوی کاروبار میں لگ کر وہ گناہ میں مبتلا ہوجائیں، بے شک ان کے ہاتھ میں برکت ہے۔
اسی طرح ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت نے دعا فرمائی "اللهم اغفر للحاج ولمن استغفر له الحاج" (اے اللّٰه! حاجی کی مغفرت فرما اور اس کی بھی، جس کے حق میں حاجی دعائے مغفرت فرمائے)۔
لہذا حاجیوں کے استقبال کے لئے جانا چاہیے، البتہ عورتوں کا حاجیوں کے استقبال کے لئے جانے میں اگر بے پردگی، مردوں کے ساتھ اختلاط یا دیگر مفاسد پائے جاتے ہوں، تو عورتوں کا حاجیوں کے استقبال کے لئے جانا درست نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (الاحزاب، الآیۃ: 33)
وقرن فی بیوتکن۔۔۔۔الخ

مسند احمد: (39/5، ط: دار الحدیث)
عن عبد الله بن عمر قال: قال رسول الله -صلي الله عليه وسلم-: "إذا لقيت الحاج فسلم عليه وصافحه، ومره أن يستغفر لك، قبل أن يدخل بيته، فإنه مغفور له".

احیاء العلوم: (241/1، ط: دار المعرفة)
وقال صلى الله عليه وسلم اللهم اغفر للحاج ولمن استغفر له الحاج

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 2119 Dec 28, 2020
haajion ka istiqbaal karne ka hukum, Ruling / Order to welcome pilgrims

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Hajj (Pilgrimage) & Umrah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.