عنوان: لے پالک لڑکے اور لڑکی کے آپس میں نکاح کا حکم(106356-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! رہنمای فرمادیں کہ میاں بیوی کی اولاد نہیں ہے، اس عورت کو بہن نے لڑکی دیدی، اور بھائی نے لڑکا دیدیا، اب ان دونوں کے نکاح ہو سکتا ہے؟

جواب: صورت مسئولہ میں اگر ان دونوں لے پالک بچوں کے درمیان کوئی حرمت رضاعت نہ ہو، تو ان کا آپس میں نکاح جائز ہو گا۔
حرمت رضاعت کا مطلب یہ ہے کہ ان دونوں بچوں نے مدت رضاعت(دودھ پینے کی مدت) میں کسی ایک ہی عورت کا دودھ نہ پیا ہو، خواہ وہ عورت ان دونوں بچوں کو گود لینے والی ان کی منہ بولی ماں ہو، اگر انہوں نے ایسا کیا، تو یہ دونوں بچے آپس میں رضاعی بہن بھائی بن جائیں گے اور ان کا آپس میں نکاح حرام ہو گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی الحدیث النبوی:

عن عائشۃ رضي اللّٰہ عنہا قالت: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: یحرم من الرضاعۃ ما یحرم من الولادۃ، رواہ البخاري۔

(مشکاۃ المصابیح / باب المحرمات، الفصل الأول ۲؍۲۷۳)

وفی اعلاء السنن:

"کل امرأۃ حرمت من النسب حرم مثلہا من الرضاع، وہن الأمہات … وبنات الأخ وبنات الأخت".

(کتاب الرضاع ۱۱؍۱۲۳ کراچی)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 341
lay palak larkay or larki kay aapas mai nikkah ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Fosterage

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com