سوال:
مفتی صاحب! درج ذیل مسئلہ کے بارے میں شرعی رہنمائی فرمادیں:
"جو خون گوشت یا کھال میں رہ جاتا ہے، اس خون کے کپڑوں پر لگ جانے سے کپڑے ناپاک نہیں ہوں گے، کیونکہ جانور کو ذبح کرنے کے بعد اس کی رگوں اور گوشت میں باقی رہ جانے والا خون ناپاک نہیں ہوتا، اور یہ دمِ مسفوح (بہتا ہوا خون) نہیں ہے۔
نوٹ: یہ حکم ذبح شدہ حلال جانور کے گوشت میں موجود خون کے بارے میں ہے۔ دمِ مسفوح (ذبح کرتے وقت بہنے والا خون) ناپاک ہے۔"
جواب: واضح رہے کہ خون کی نجاست کا مدار اس کے بہنے پر ہے، یعنی جو خون بہنے والا ہو وہ نجس ہے اور جو بہنے والا نہ ہو وہ نجس نہیں ہوتا، چونکہ حلال ذبح شدہ جانور کی رگوں اور گوشت میں باقی رہ جانے والا خون بہنے والا نہیں ہوتا، اس لیے ایسا خون نجس نہیں کہلائے گا،
لہٰذا اگر کسی کے کپڑے پر گوشت کا یہی (غیر بہنے والا) خون لگا ہو اور اسی کپڑے میں نماز پڑھ لی جائے تو نماز ہو جائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*أحكام القرآن للجصاص ط العلمية: (1/ 150، ط: دار الكتب العلمية)*
{قل لا أجد في ما أوحي إلي محرما على طاعم يطعمه إلا أن يكون ميتة أو دما مسفوحا} [الأنعام: 145] دل ذلك على أن المحرم من الدم هو المسفوح دون غيره ... عن قتادة في قوله: {أو دما مسفوحا} [الأنعام: 145] قال: *حرم من الدم ما كان مسفوحا، وأما اللحم يخالطه الدم فلا بأس به* . وروى القاسم بن محمد *عن عائشة، أنها سئلت عن الدم يكون في اللحم والمذبح قالت: "إنما نهى الله عن الدم المسفوح".*
ولا خلاف بين الفقهاء في جواز أكل اللحم مع بقاء أجزاء الدم في *العروق* ; لأنه غير مسفوح
*الھندیة: (46/1، ط: دار الفکر)*
وما يبقى من الدم في عروق الذكاة بعد الذبح لا يفسد الثوب وإن فحش. كذا في فتاوى قاضي خان وكذا الدم الذي يبقى في اللحم؛ لأنه ليس بمسفوح. هكذا في محيط السرخسي.
*الدر المختار مع رد المحتار: (1/ 319، ط: دار الفکر)*
(ودم) مسفوح من سائر الحيوانات إلا دم شهيد ما دام عليه وما بقي في لحم مهزول وعروق وكبد وطحال وقلب وما لم يسل
(قوله: وما لم يسل) أي: من بدن الإنسان بحر، لكن في حواشي الحموي: إن التقييد بالإنسان اتفاقي؛ لأن الظاهر أن غيره كذلك.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی