سوال:
السلام علیکم! میرا ایک مسئلہ ہے کہ جب بھی میں واش روم استعمال کرتی ہوں تو مجھے ہمیشہ اپنے پاؤں، ٹانگوں، چہرے، گردن اور حتیٰ کہ بالوں پر بھی پیشاب کے چھینٹے محسوس ہوتے ہیں، مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ان کے ساتھ کیا کروں؟میں ہر مرتبہ واش روم استعمال کرنے کے بعد اپنا سر نہیں دھو سکتی، میں ایک طالبہ ہوں اور مجھے بہت زیادہ پڑھائی کرنی ہوتی ہے، اس لیے اس طرح طہارت برقرار رکھنا میرے لیے تقریباً ناممکن محسوس ہوتا ہے۔
میں کئی سالوں سے نماز نہیں پڑھ رہی تھی، لیکن اب میں نماز شروع کرنا چاہتی ہوں۔ مسئلہ یہ ہے کہ طہارت برقرار رکھنا میرے لیے بہت مشکل ہے، کیونکہ مجھے ہر وقت یہی محسوس ہوتا ہے کہ میں مکمل طور پر پاک نہیں ہوں۔ جب بھی میں واش روم استعمال کرتی ہوں تو مجھے اپنے جسم، چہرے اور کپڑوں پر پیشاب کے چھینٹے محسوس ہوتے ہیں اور ایسا بھی لگتا ہے کہ میرے بالوں میں بھی پیشاب کے چھینٹے پڑ گئے ہیں۔
ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ مجھے پیشاب کے قطرے آنے کی شکایت بھی ہے اور مجھے کبھی یقین نہیں ہوتا کہ واقعی پیشاب کے قطرے نکلے ہیں یا یہ میرا OCD ہے؟ مجھے شدید مخلوط اضطراب اور ڈپریشن، پینک ڈس آرڈر اور OCD کی تشخیص ہوچکی ہے اور اس وقت میں ادویات بھی استعمال کر رہی ہوں۔
مجھے خوف ہے کہ اگر میں اسی طرح طہارت کے بارے میں پریشان ہوتی رہی تو شاید میں کبھی نماز شروع ہی نہ کر سکوں۔ پیشاب کے چھینٹوں سے بچنا مجھے بہت مشکل، بلکہ تقریباً ناممکن محسوس ہوتا ہے، لیکن میں نماز بھی شروع کرنا چاہتی ہوں۔ براہ کرم میری رہنمائی فرمائیں۔
جواب: واش روم استعمال کرتے ہوئے اگر پیشاب کے چھینٹے جسم، کپڑوں یا بالوں پر پڑنے کا صرف شک یا وہم ہو، (جیسا کہ سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ان وساوس میں مبتلا ہیں) تو اس کی طرف توجہ نہ کی جائے۔ جب تک نجاست کا یقین نہ ہو، سب پاک شمار ہوگا اور ہر مرتبہ ٹانگوں یا سر وغیرہ دھونا ضروری نہیں ہوگا۔
اسی طرح پیشاب کے قطرے نکلنے کا صرف وہم ہو تو نماز نہ چھوڑی جائے، بلکہ وسوسوں کو نظر انداز کرکے معمول کے مطابق پاکی حاصل کریں اور نماز شروع کریں، نیز OCD کے علاج کے لیے ڈاکٹر سے علاج جاری رکھیں۔
البتہ اگر پیشاب کے قطرے نکلنے کا یقین ہو اور پاکی حاصل کرنے کے بعد اتنا وقت مل جائے کہ جس میں نماز ادا کی جاسکے تو پاکی حاصل کرکے نماز ادا کریں۔ اگر قطرے مسلسل آتے رہتے ہوں اور پاکی حاصل کرنے کے بعد اتنا وقت بھی نہ مل سکتا ہو کہ جس میں نماز ادا کی جا سکے تو مزید تفصیل کے لیے سوال دوبارہ ارسال کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*الفتاویٰ الھندیة: (22/1، ط: دار الفکر)*
اتفق أصحابنا - رحمهم الله - أن الماء المستعمل ليس بطهور حتى لا يجوز التوضؤ به واختلفوا في طهارته قال محمد - رحمه الله -: هو طاهر وهو رواية عن أبي حنيفة - رحمه الله - وعليه الفتوى. كذا في المحيط.
*الفتاوى الھندیة: (41/1، ط: دار الفکر)*
المستحاضة ومن به سلس البول أو استطلاق البطن أو انفلات الريح أو رعاف دائم أو جرح لا يرقأ يتوضئون لوقت كل صلاة ويصلون بذلك الوضوء في الوقت ما شاءوا من الفرائض والنوافل هكذا في البحر الرائق ... ويبطل الوضوء عند خروج وقت المفروضة بالحدث السابق. هكذا في الهداية وهو الصحيح.
*الأشباہ والنظائر: (ص: 62، ط: رشيدية)*
الیقین لا یزول بالشّك.
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی