سوال:
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ! کینولا (IV Cannula) پر مسح کا شرعی حکم کیا ہے؟ کیا یہ ضرر اور حرج میں داخل ہے یا محض آسانی کے لیے ہے؟ اگر محض آسانی کے لیے لگوایا جائے تو کیا اس پر مسح جائز ہے؟ نیز روزانہ تین چار مرتبہ کینولا تبدیل کروانا کیا شرعاً ضرر شمار ہوگا؟ اور اگر علاج کینولا کے بغیر دوا سے ممکن ہو پھر بھی کینولا لگوالیا جائے تو مسح کا کیا حکم ہوگا؟ نیز قیمت کے اعتبار سے کتنی مالیت پر اسے ضرر کہا جائے گا؟ اور اگر کینولا کو اتنا تر کیا جائے کہ غالب گمان ہو کہ پانی جلد تک پہنچ گیا ہے تو اس صورت کا حکم کیا ہے؟
جواب: واضح رہے کہ اگر کینولا معتبر طبّی عذر کی بنیاد پر لگایا جائے تو ایسی صورت میں اس کینولا پر مسح کرنا جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔
اور کینولا پر مسح کا تعلق اس کی قیمت کے ساتھ نہیں، بلکہ اس کا تعلق حرج کے ساتھ ہے، اگر بار بار کینولا بدلنے میں حرج ہے، جیسا کہ ظاہر یہی ہے تو اس پر مسح کرنا جائز ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الدر المختار مع رد المحتار: (1/ 281، ط: دار الفكر)
(ويمسح) نحو (مفتصد وجريح على كل عصابة) مع فرجتها في الأصح (إن ضره) الماء (أو حلها) ومنه أن لا يمكنه ربطها بنفسه ولا يجد من يربطها اه.
رد المحتار: ثم المسألة رباعية كما أشار إليه في الخزائن؛ لأنه إن ضره الحل يمسح، سواء ضره أيضا المسح على ما تحتها أو لا؛ وإن لم يضره الحل، فإما أن لا يضره المسح أيضا فيحلها ويغسل ما لا يضره ويمسح ما يضره، وإما أن يضره المسح فيحلها ويغسل كذلك ثم يمسح الجرح على العصابة إذ الثابت بالضرورة يتقدر بقدرها اه.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی