سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، محترم مفتی صاحب! مجھے ایک شرعی مسئلے کے بارے میں رہنمائی درکار ہے۔
میری کمپنی نے ملازمین کو ملازمت کے فوائد کے تحت ایک طبی سہولت فراہم کی ہوئی ہے، جس کے تحت میرے اور میری فیملی کے علاج اور ادویات کے اخراجات ایک مقررہ سالانہ حد تک ادا یا واپس کیے جاتے ہیں، اس سہولت کے لیے میں الگ سے کوئی پریمیم ادا نہیں کرتا اور نہ ہی اس کی کوئی رقم میری تنخواہ سے کاٹی جاتی ہے، میں درج ذیل صورتوں کے بارے میں شرعی رہنمائی چاہتا ہوں:
1) کیا کمپنی کی طرف سے دی گئی اس طبی سہولت کو اپنے اور اپنی فیملی کے حقیقی علاج اور ادویات کے اخراجات کے لیے استعمال کرنا شرعاً جائز ہے؟
2) اگر میری اپنی یا میری فیملی کی ضرورت نہ ہو، تو کیا میں اس سہولت سے کسی مستحق رشتہ دار یا دوست کی حقیقی ادویات یا علاج کے اخراجات پورے کر سکتا ہوں؟ مثلاً: وہ شخص اپنی ضرورت کی دوائیاں خریدے اور میں کمپنی کی فراہم کردہ طبی سہولت کے ذریعے اس رقم کی واپسی حاصل کر کے اسے دے دوں۔
3) اگر کسی رشتہ دار یا دوست کے پاس حقیقی طور پر خریدی گئی ادویات کے اصلی بل موجود ہوں تو کیا ان بلوں کی رقم اس طبی سہولت کے ذریعے وصول کر کے اسے دینا جائز ہے؟
4) اس سہولت کی سالانہ حد ایک مخصوص تاریخ، مثلاً مئی میں، دوبارہ مقرر ہوتی ہے، اگر مئی سے پہلے کے حقیقی علاج یا ادویات کے بل موجود ہوں، لیکن کمپنی یا انشورنس کے قواعد کے مطابق پچھلی تاریخ کے بلوں کی واپسی کی اجازت نہ ہو تو کیا ایسے پرانے مگر اصلی بل نئی مقرر شدہ حد سے وصول کر کے کسی مستحق شخص کو دینا شرعاً جائز ہوگا؟
واضح رہے کہ کسی قسم کا جعلی بل بنانے یا جھوٹا علاج ظاہر کرنے کی نیت نہیں ہے۔ سوال صرف حقیقی ادویات، اصلی بلوں اور کمپنی کی طرف سے ملازمت کے فوائد کے تحت دی گئی طبی سہولت کے شرعی استعمال کے بارے میں ہے۔ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیراً
جواب: واضح رہے کہ کمپنی کی طرف سے ملازم کو ملنے والی طبی سہولیات عموماً ملازم اور اس کی فیملی کے متعین افراد کے لیے خاص ہوتی ہیں، ان کے علاوہ ملازم کے دیگر متعلقین کے لیے ان سہولیات سے فائدہ اٹھانے کی اجازت کمپنی کی طرف سے نہیں ہوتی۔
(1) مذکورہ صورت میں اپنے اور فیملی کے مخصوص افراد کے حقیقی علاج و معالجہ کے اخراجات کے لیے مذکورہ طبّی سہولت کو کمپنی کے اصول و ضوابط کی رعایت رکھتے ہوئے استعمال میں لانا جائز ہوگا۔
(2، 3، 4) چونکہ اس طرح کی سہولت سے ملازم اور اس کی فیملی کے مختص افراد کے علاوہ کسی اور کے لیے فائدہ اٹھانے کی اجازت کمپنی کی طرف سے نہیں ہوتی، لہٰذا دیگر متعلقین یا کسی مستحق شخص کی ادویات اور علاج و معالجہ کے اخراجات یا ان کی ادویات کے بلوں کی مد میں مذکورہ کسی بھی طریقے سے اس سہولت سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ اگر یہ سہولت کسی انشورنس کمپنی کے ذریعے دی جا رہی ہو تو اس کی تفصیلات لکھ کر دوبارہ اس کا حکم معلوم کیا جا سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الكريم: (النساء، الآية: 58)
إِنَّ ٱللَّهَ یَأۡمُرُكُمۡ أَن تُؤَدُّوا۟ ٱلۡأَمَٰنَٰتِ إِلَىٰۤ أَهۡلِهَا وَإِذَا حَكَمۡتُم بَیۡنَ ٱلنَّاسِ أَن تَحۡكُمُوا۟ بِٱلۡعَدۡلِۚ إِنَّ ٱللَّهَ نِعِمَّا یَعِظُكُم بِهِۦۤۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ سَمِیعَۢا بَصِیرࣰا O
و قوله تعالی: (بنی اسرائیل، الآیة: 34)
وَاَوۡفُوۡا بِالۡعَھدِ ۚ اِنَّ الۡعَھدَ کَانَ مَسۡئُوۡلًا O
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی