سوال:
میری شادی شدہ زندگی کے حوالے سے ایک اہم مسئلہ درپیش ہے، براہِ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں۔
میری بیوی کے پہلے دو بچے C-Section کے ذریعے پیدا ہوئے ہیں، دونوں بچوں کے درمیان تقریباً دو سال کا وقفہ ہے، لیکن اب ہماری بیٹی کو تقریباً ایک سال ہوا ہے اور اس بار میری بیوی کے ماہواری (Periods) کی متوقع تاریخ گزر چکی ہے، ہمیں خدشہ ہے کہ شاید تیسری مرتبہ حمل ٹھہر گیا ہے۔
ہم اس وقت کسی بھی صورت میں نئے بچے کے لیے تیار نہیں ہیں، کیونکہ ہمارے دونوں بچے ابھی بہت چھوٹے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ پہلے ان کی اچھی تربیت، تعلیم اور پرورش پر توجہ دیں اور ان کی بنیاد مضبوط کریں۔ ہمیں یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ اتنے کم وقفے سے تیسرا بچہ ہونے کی صورت میں پہلے دونوں بچوں کے ساتھ بھی ناانصافی ہو سکتی ہے، کیونکہ ان کی مناسب دیکھ بھال اور تربیت متاثر ہو سکتی ہے۔
دوسری طرف میری بیوی ذہنی طور پر اس وقت بالکل تیار نہیں ہیں، وہ اس بات کے خوف اور پریشانی کی وجہ سے مسلسل رو رہی ہیں، جس کی وجہ سے گھر کا ماحول بھی بہت خراب ہو رہا ہے، گھر کے بعض دوسرے افراد بھی اس صورتحال سے پریشان ہیں اور کہتے ہیں کہ اتنے کم وقفے کے بعد دوبارہ حمل ہونا مناسب نہیں ہے۔
میری پریشانی یہ ہے کہ اگر حمل واقعی ٹھہر گیا ہے تو کیا ایسی صورتحال میں حمل ضائع (Abortion) کروانے کی شرعی اجازت ہو سکتی ہے؟ میں اس معاملے کے بارے میں زیادہ علم نہیں رکھتا اور یہ بھی معلوم نہیں کہ فقہاء اور علماء کرام کے درمیان اس مسئلے میں کوئی اختلاف پایا جاتا ہے یا نہیں۔
خاص طور پر چونکہ میری بیوی کے پہلے ہی دو C-Sections ہو چکے ہیں اور دوسرے C-Section کو ابھی تقریباً ایک سال ہی ہوا ہے تو کیا اس مختصر وقفے میں تیسرا حمل ماں کی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے؟ اگر ماہر ڈاکٹر یہ کہیں کہ حمل جاری رکھنے سے ماں کی صحت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے تو کیا اس صورت میں شرعاً حمل ختم کرنے کی اجازت ہوگی؟
براہِ کرم حنفی فقہ کی روشنی میں اس مسئلے کی مکمل رہنمائی فرمائیں کہ:
1) حمل کے کتنے عرصے تک شرعی طور پر گنجائش موجود ہوتی ہے؟
2) کن حالات کو شرعی عذر یا مجبوری شمار کیا جاتا ہے؟
3) کیا دو C-Sections کے صرف ایک سال بعد تیسرا حمل ہونا حمل ختم کرنے کے لیے شرعی عذر بن سکتا ہے؟
4) اگر بیوی ذہنی طور پر شدید پریشان ہو اور اس حمل کو جاری رکھنے سے اس کی صحت متاثر ہونے کا خدشہ ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟
5) اگر حمل ابھی ابتدائی مراحل میں ہو تو کیا حکم مختلف ہوگا؟
براہِ کرم قرآن و سنت اور معتبر فقہی کتب کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں، ہم جلد از جلد درست شرعی رہنمائی چاہتے ہیں تاکہ جذبات یا لوگوں کی باتوں کے بجائے شریعت کے مطابق فیصلہ کر سکیں۔ جزاکم اللہ خیراً
جواب: فقہِ اسلامی میں اسقاطِ حمل نہایت حساس مسئلہ ہے، جس میں انسانی جان کے احترام، ماں کی صحت اور شرعی اعذار کے درمیان توازن ملحوظ رکھا گیا ہے۔ فقہِ حنفی کی روشنی میں اس مسئلے کی تفصیل درج ذیل ہے:
1۔ اسقاط حمل کی حمل کے کتنے عرصے تک شرعی طور پر گنجائش موجود ہوتی ہے؟
حمل کے چار ماہ یعنی تقریباً 120 دن مکمل ہونے کے بعد جنین میں روح پھونکے جانے کی بنا پر اسقاطِ حمل کی حرمت نہایت مؤکد ہوجاتی ہے، اور بلا ضرورت اسقاط کرنا قتلِ نفس کے حکم میں داخل ہوتا ہے، چار ماہ سے پہلے بھی بلا شرعی عذر حمل ساقط کرنا جائز نہیں، البتہ کسی معتبر اور شدید شرعی عذر کی صورت میں 120 دن سے پہلے اسقاط کی گنجائش فقہاء نے ذکر کی ہے، لیکن بغیر عذر کے مباح نہیں، لہٰذا شرعی گنجائش کی آخری حد 120 دن سے پہلے ہے، بشرطیکہ معتبر شرعی عذر موجود ہو۔
2) کن حالات کو شرعی عذر شمار کیا جاتا ہے اور کن کو نہیں؟
بچوں کی پرورش کی دشواری، حمل کے درمیان کم وقفہ ہونا، یہ خیال کہ ابھی مزید بچے کے لیے تیار نہیں، مستقبل کے اخراجات کا خوف، معاشی تنگی یا محض لوگوں کی باتوں اور معاشرتی شرمندگی کو شرعی عذر قرار نہیں دیا جاسکتا۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ﴾ (الإسراء: 31)، ترجمہ: اور اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل نہ کرو، ہم انہیں بھی رزق دیتے ہیں اور تمہیں بھی۔ البتہ اگر ماں کی جان کو حقیقی خطرہ ہو، یا کوئی ایسا شدید اور مستقل مرض ہو جس کی وجہ سے اس کی جان، کسی عضو یا صحت کو شدید نقصان پہنچنے کا غالب اندیشہ ہو، یا بعض فقہی صورتوں میں دودھ پیتے بچے کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہو اور اس کے دودھ وغیرہ کا کوئی متبادل انتظام ممکن نہ ہو تو معتبر شرعی عذر پایا جاسکتا ہے۔
3) دو سیزیرین آپریشنوں کے ایک سال بعد حمل ٹھہرنے کی صورت میں کیا اسقاط جائز ہوگا؟
محض یہ بات کہ سابقہ دو ولادتیں سیزیرین کے ذریعے ہوئی ہیں اور ان کے درمیان تقریباً ایک سال کا وقفہ ہے، بذاتِ خود اسقاطِ حمل کے لیے شرعی عذر نہیں ہے، البتہ اگر ماہر، قابلِ اعتماد اور دیانت دار گائناکالوجسٹ معائنہ کے بعد یہ تشخیص کریں کہ سابقہ آپریشنوں کے زخم یا بچہ دانی کی حالت ایسی ہے کہ حمل جاری رکھنے سے ماں کی جان کو حقیقی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے، یا بچہ دانی پھٹنے یا کسی شدید اور ناقابلِ تلافی نقصان کا غالب اندیشہ ہے تو 120 دن سے پہلے اس طبی ضرورت کی بنا پر اسقاط کی گنجائش ہوسکتی ہے۔ لیکن اگر ماہر ڈاکٹر کی رائے یہ ہو کہ مناسب طبی نگرانی، احتیاط اور علاج کے ساتھ حمل بحفاظت جاری رکھا جاسکتا ہے اور ماں کی جان کو غیر معمولی خطرہ نہیں تو محض سابقہ سیزیرین آپریشنوں کی وجہ سے اسقاط جائز نہیں ہوگا۔
4) اگر بیوی ذہنی طور پر شدید پریشان ہو، مسلسل رو رہی ہو اور حمل کی وجہ سے خوف زدہ ہو تو کیا اسقاط جائز ہوگا؟
غیر متوقع حمل کی وجہ سے وقتی گھبراہٹ، پریشانی، رونا یا ذہنی دباؤ عام طور پر اسقاطِ حمل کے لیے شرعی عذر نہیں بنتا۔ ایسی صورت میں شوہر کو چاہیے کہ اہلیہ کو تسلی دے، اس کا حوصلہ بڑھائے اور اسے اللہ تعالیٰ کی رحمت، رزق اور تقدیر پر اعتماد کی تلقین کرے، البتہ اگر معاملہ محض وقتی پریشانی سے بڑھ کر کسی شدید نفسیاتی یا اعصابی مرض کی صورت اختیار کرلے، اور ماہر نفسیات یا متعلقہ ماہرین کی تشخیص کے مطابق حمل جاری رہنے سے ماں کی جان یا عقل کو شدید خطرہ لاحق ہو تو ایسی صورت کو شدید مرض کے حکم میں دیکھا جاسکتا ہے، اور 120 دن سے پہلے اسقاط کی گنجائش کے بارے میں غور کیا جاسکتا ہے۔
5)اگر حمل بالکل ابتدائی مرحلے میں ہو، مثلاً 40 دن سے کم، تو کیا حکم مختلف ہوگا؟
حمل کے ابتدائی مرحلے میں جنین کی نشوونما کے اعتبار سے حکم کی شدت بعد کے مراحل سے مختلف ہوسکتی ہے، تاہم محض ابتدائی مرحلہ ہونے کی وجہ سے بلا عذرِ شرعی حمل ساقط کرنا جائز نہیں ہوجاتا، لہٰذا 40 دن سے کم حمل کو بھی صرف اس بنیاد پر دوا یا کسی طبی طریقے سے ضائع کرنا درست نہیں کہ ابھی حمل ابتدائی مرحلے میں ہے، البتہ اگر اس مرحلے میں کوئی معتبر اور شدید شرعی یا طبی عذر موجود ہو تو فقہاء کی مذکورہ تصریحات کے مطابق اسقاط کی گنجائش ہوسکتی ہے۔
خلاصہ: مذکورہ صورت میں پہلے حمل کی حتمی تصدیق کرائی جائے، پھر کسی ماہر اور قابلِ اعتماد گائناکالوجسٹ سے مکمل معائنہ کروا کر یہ معلوم کیا جائے کہ سابقہ دو سیزیرین کی وجہ سے موجودہ حمل ماں کی جان یا صحت کے لیے غیر معمولی خطرہ تو نہیں۔ اگر معتبر طبی تشخیص سے حقیقی اور شدید خطرہ ثابت ہو تو 120 دن سے پہلے اسقاط کی گنجائش ہوگی، اور اگر ایسا خطرہ موجود نہ ہو تو محض کم وقفہ، سابقہ سیزیرین، بچوں کی پرورش کی دشواری، معاشی فکر یا ذہنی پریشانی کی وجہ سے اسقاط جائز نہیں ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
رد المحتار: (176/3، ط: دار الفكر - بيروت)
"قَالَ فِي النَّهْرِ: بَقِيَ هَلْ يُبَاحُ الإِسْقَاطُ بَعْدَ الْحَمْلِ؟ نَعَمْ يُبَاحُ مَا لَمْ يَتَخَلَّقْ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَنْ يَكُونَ ذَلِكَ إِلَّا بَعْدَ مِائَةٍ وَعِشْرِينَ يَوْمًا، وَهَذَا يَقْتَضِي أَنَّهُمْ أَرَادُوا بِالتَّخَلُّقِ نَفْخَ الرُّوحِ وَإِلَّا فَهُوَ غَلَطٌ؛ لِأَنَّ التَّخَلُّقَ يَتَحَقَّقُ بِدُونِهِ كَمَا فِي الْعِنَايَةِ، وَفِي كَرَاهَةِ الْخَانِيَّةِ: عَلَى أَنَّهُ يُكْرَهُ، فَإِنَّ الْمَاءَ بَعْدَمَا وَقَعَ فِي الرَّحِمِ مَآلُهُ الْحَيَاةُ فَيَكُونُ لَهُ حُكْمُ الْحَيَاةِ كَمَا فِي بَيْضَةِ صَيْدِ الْحَرَمِ، وَنَحْوُهُ فِي الذَّخِيرَةِ، وَكَانَ الْفَقِيهُ عَلِيُّ بْنُ مُوسَى يَقُولُ: إِنَّهُ يُكْرَهُ؛ فَإِنَّ الْمُحْرِمَ إِذَا كَسَرَ بَيْضَ الصَّيْدِ ضَمِنَ؛ لِأَنَّهُ أَصْلُ الصَّيْدِ، فَلَمَّا كَانَ كَسْرُهُ جِنَايَةً فَكَذَلِكَ هَذَا. نَهْرٌ. نَقَلَهُ السَّائِحَانِيُّ وَشَيْخُنَا، لَكِنْ لَا يَخْفَى أَنَّ هَذَا التَّعْلِيلَ يُفِيدُ أَنَّ الْإِسْقَاطَ حَرَامٌ بِلَا عُذْرٍ."
الفتاوى الهندية: (356/5، ط: دار الفكر - بيروت)
"إسْقَاطُ الْحَمْلِ بَعْدَ مَا اسْتَبَانَ خَلْقُهُ لَا يَجُوزُ كَذَا فِي الذَّخِيرَةِ، وَلَوْ سَقَطَ سِقْطٌ فَاسْتَبَانَ بَعْضُ خَلْقِهِ يُعْتَبَرُ نُفَاسًا، وَلَوْ لَمْ يَسْتَبِنْ شَيْءٌ مِنْ خَلْقِهِ لَا يُعْتَبَرُ نُفَاسًا، وَالْأَصْلُ أَنَّ مَا لَمْ يَسْتَبِنْ بَعْضُ خَلْقِهِ لَا يَكُونُ وَلَدًا، وَلَا يَسْتَبِينُ خَلْقُهُ إلَّا بَعْدَ مِائَةٍ وَعِشْرِينَ يَوْمًا، وَهَذَا لَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْإِسْقَاطَ بِلَا عُذْرٍ مُبَاحٌ، فَإِنَّ الْمُحْرِمَ إذَا كَسَرَ بَيْضَ الصَّيْدِ ضَمِنَ؛ لِأَنَّهُ أَصْلُ الصَّيْدِ، فَلَمَّا كَانَ كَسْرُهُ جِنَايَةً فَكَذَلِكَ إفْسَادُ هَذَا، فَيُكْرَهُ لِغَيْرِ عُذْرٍ كَذَا فِي فَتَاوَى قَاضِي خَانْ."
البحر الرائق: (233/8، ط: دار الكتاب الإسلامي - بيروت)
"وَفِي الْخَانِيَّةِ: وَامْرَأَةٌ أَرَادَتْ أَنْ تُسْقِطَ الْحَبَلَ إنْ كَانَ لَمْ يَسْتَبِنْ شَيْءٌ مِنْ خَلْقِهِ يُبَاحُ وَلَا يَكُونُ حَرَامًا، إلَّا أَنَّهُمْ قَالُوا: إنَّهُ يُكْرَهُ؛ فَإِنَّ الْمَاءَ بَعْدَمَا وَقَعَ فِي الرَّحِمِ مَآلُهُ الْحَيَاةُ فَيَكُونُ لَهُ حُكْمُ الْحَيَاةِ كَمَا فِي بَيْضَةِ صَيْدِ الْحَرَمِ، وَنَحْوُهُ فِي الظَّهِيرِيَّةِ، وَكَانَ الْفَقِيهُ عَلِيُّ بْنُ مُوسَى يَقُولُ: يُكْرَهُ؛ لِأَنَّ الْمُحْرِمَ إذَا كَسَرَ بَيْضَ الصَّيْدِ ضَمِنَ فَلَمَّا كَانَ كَسْرُهُ جِنَايَةً فَكَذَلِكَ إفْسَادُ هَذَا."
رد المحتار: (429/6، ط: دار الفكر - بيروت)
"قَوْلُهُ: (وَقَالُوا يُبَاحُ إلَخْ) إطْلَاقُهُمْ يُفِيدُ أَنَّهَا لَا تَأْثَمُ بِإِسْقَاطِهِ رَأْسًا، لَكِنْ فِي خِزَانَةِ الْأَكْمَلِ قَالُوا: إنَّ اعْتَذَرَتْ بِأَنَّهَا مُرْضِعَةٌ وَانْقَطَعَ لَبَنُهَا وَلَيْسَ لِلصَّبِيِّ مَنْ يُرْضِعُهُ فَلَا بَأْسَ، وَعَنْ ابْنِ وَهْبَانَ: إطْلَاقُهُمْ يُفِيدُ أَنَّهَا لَا تَأْثَمُ؛ لَكِنْ نَقَلَ فِي جَامِعِ الْمَفَاتِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُوسَى أَنَّهُ يَكْرَهُ؛ فَإِنَّ الْمَاءَ بَعْدَ الْوُقُوعِ فِي الرَّحِمِ مَآلُهُ الْحَيَاةُ فَيَكُونُ لَهُ حُكْمُ الْحَيَاةِ كَمَا فِي بَيْضِ صَيْدِ الْحَرَمِ، وَنَقَلَ ابْنُ وَهْبَانَ فِي شَرْحِ مَنْظُومَتِهِ عَنْ ابْنِ الْعَرَبِيِّ الْمَالِكِيِّ أَنَّهُ قَالَ: إذَا قَبَضَ الرَّحِمُ الْمَنِيَّ لَمْ يَجُزْ لِأَحَدٍ قَطْعُهُ، وَالْحَاصِلُ أَنَّ الْإِبَاحَةَ مَحَلُّهَا الْعُذْرُ كَانْقِطَاعِ لَبَنِهَا عَنْ رَضِيعِهَا وَلَيْسَ لِأَبِيهِ مَا يَسْتَأْجِرُ بِهِ الظِّئْرَ وَيَخَافُ هَلَاكَهُ."
الفتاوى الخانية المطبوع بهامش الهندية: (412/3)
"امْرَأَةٌ عَالَجَتْ فِي إسْقَاطِ حَمْلِهَا، قَالُوا: إنْ كَانَ لَمْ يَسْتَبِنْ شَيْءٌ مِنْ خَلْقِهِ لَا يَكُونُ حَرَامًا، إلَّا أَنَّهُمْ قَالُوا: إنَّهُ يُكْرَهُ؛ فَإِنَّ الْمَاءَ بَعْدَمَا وَقَعَ فِي الرَّحِمِ مَآلُهُ الْحَيَاةُ فَيَكُونُ لَهُ حُكْمُ الْحَيَاةِ كَمَا فِي بَيْضَةِ صَيْدِ الْحَرَمِ، وَكَانَ الْفَقِيهُ عَلِيُّ بْنُ مُوسَى يَقُولُ: يُكْرَهُ أَيْضًا؛ فَإِنَّ الْمُحْرِمَ إذَا كَسَرَ بَيْضَ الصَّيْدِ ضَمِنَ لِأَنَّهُ أَصْلُ الصَّيْدِ، فَلَمَّا كَانَ كَسْرُهُ جِنَايَةً فَكَذَلِكَ إفْسَادُ هَذَا."
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی