سوال:
محترم میں ایک جگہ جاب کرتا ہوں جہاں پر مجھ کو ایک چیز پر آنے والے خرچے کے بعد منافع پر حصہ دیا جاتا ہے، اگر کوئی کام 100 روپے کا ہوا، اس میں سے 20 روپے خرچہ نکال کر میرا حصہ دیا جانا طے ہوا، اب وہ خرچہ 30 ( مجھ کو بغیر بتائے) نکال کر میرا حصہ دے رہے ہیں، کچھ عرصے پہلے مجھ کو کچھ حساب میں کمی محسوس ہوئی تو میرے کہنے پر بتایا گیا کہ ہم نے خرچہ بڑھا دیا ہے(مجھ کو بغیر بتائے ھوئے)۔جس کی وجہ سے میری آمدن کم ہوگئی، کیا یہ شرعی طور پر مناسب ہے کہ بغیر بتائے ایسا کیا جائے؟
سوال سے متعلق وضاحت:
محترم! آپ کا سوال مکمل طور پر واضح نہیں ہے، براہِ کرم درج ذیل امور کی وضاحت فرمائیں:
1) آپ کمپنی میں کیا ملازمت (Job) کرتے ہیں؟ نیز وہ کون سا کام ہے جس کے عوض آپ کو کمیشن دیا جاتا ہے، اور اس کام میں آپ کی ذمہ داری اور محنت کی نوعیت کیا ہوتی ہے؟
2) کمیشن طے کرنے کا طریقۂ کار کیا ہے؟ کیا ابتدا ہی سے یہ طے تھا کہ پہلے اخراجات منہا کیے جائیں گے، پھر باقی نفع میں سے کمیشن دیا جائے گا؟ اگر ہاں، تو کیا اخراجات کی نوعیت یا واضح فارمولا بھی مقرر کیا گیا تھا؟
3) کمیشن کی مقدار کس طرح طے کی گئی تھی؟ کیا اخراجات منہا کرنے کے بعد آپ کو نفع کا کوئی متعین فیصد یا مقررہ حصہ ملنا طے تھا یا یہ معاملہ غیر متعین اور کمپنی کی صواب دید پر موقوف تھا؟
مطلوبہ وضاحت کا سائل کی طرف سے جواب:
1) میں ڈاکٹر ہوں اور مریض کو حسب ضرورت سرجری کی ایڈوائس دیتا ہوں اور اس کا علاج کرتا ہوں۔
2)جی اخراجات منہا کر کے بتایا گیا تھا۔
3) جی متعین شرع مثلاً: 18 فیصد خرچہ نکال کر طے ہوا، اب چونکہ خرچہ بڑھا دیا (بغیر بتائے) تو میرا حصہ کم ہو گیا ہے۔
جواب: واضح رہے کہ کمیشن پر کام کرنے والے کو اس کے کمیشن کی شرح (فیصد) میں ہونے والی کمی کے بارے سے مطلع کردینا چاہیے، البتہ ڈاکٹر حضرات چونکہ مریض سے علاج و معالجہ کے عوض فیس لیتے ہیں، جس میں علاج و معالجہ کے متعلق مکمل رہنمائی کرنا شامل ہوتا ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اصولاً آپ کے لیے سرجری کی طرف رہنمائی کے عوض ہسپتال والوں سے کمیشن لینا جائز نہیں ہے، کیونکہ سرجری کی طرف رہنمائی کرنا آپ کے فرائض میں شامل ہے، جس کے عوض مریض سے فیس لی جاتی ہے، تاہم اگر درج ذیل شرائط کی رعایت رکھی جائے تو مذکورہ صورت میں ہسپتال والوں سے کمیشن لینے کی گنجائش ہوسکتی ہے:
1) اگر مطلوبہ سرجری کی سہولت کئی ہسپتالوں میں دستیاب ہو اور ان سب کی خدمات اور معیار تقریباً یکساں ہوں تو آپ مذکورہ ہسپتال کی طرف مریض کی رہنمائی کرسکتے ہیں اور اس رہنمائی پر دیگر شرائط کے ساتھ ہسپتال والوں سے کمیشن بھی لے سکتے ہیں۔
البتہ اگر مطلوبہ سرجری کسی خاص ہسپتال میں زیادہ بہتر، قابلِ اعتماد اور معیاری طریقے سے ہوتی ہو اور اس پر آنے والا خرچہ بھی عام ہسپتالوں کے خرچے کے مطابق ہو تو اسی بہتر ہسپتال کی طرف رہنمائی کرنا آپ پر لازم ہوگا۔ محض کمیشن حاصل کرنے کی خاطر مریض کو کسی کم معیار یا غیر موزوں ہسپتال کی طرف بھیجنا جائز نہیں اور ایسی صورت میں کمیشن لینا بھی ناجائز ہوگا۔
2) مریض کو واقعی سرجری کی طبی ضرورت ہو، محض کمیشن حاصل کرنے کے لیے غیر ضروری سرجری تجویز کرنا جائز نہیں۔
3) ڈاکٹر اور ہسپتال والوں کے درمیان کمیشن کی مقدار پہلے سے واضح اور متعین ہو، تاکہ معاملے میں کسی قسم کا نزاع یا جہالت نہ رہے۔
4) مریض کو اسی مخصوص ہسپتال سے سرجری کرانے پر مجبور نہ کیا جائے، بلکہ اسے کسی دوسرے مناسب اور معیاری ہسپتال سے سرجری کرانے کا اختیار بھی حاصل ہو۔
5) ہسپتال والے کمیشن میں خرچ ہونے والی رقم سرجری یا اس میں استعمال ہونے والی ادویات وغیرہ کی قیمت بڑھا کر مریض سے وصول نہ کریں۔
تاہم میڈیکل شعبہ میں کمیشن کے حوالے سے بے احتیاطی کو دیکھتے ہوئے بظاہر مذکورہ شرائط کی رعایت رکھنا مشکل معلوم ہوتا ہے، چونکہ خدمتِ خلق کی وجہ سے میڈیکل اور طب کا پیشہ نہایت مبارک اور قربِ خداوندی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے، لہٰذا اس پیشے کے تقدُّس کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے مذکورہ صورت میں بھی آپ کو کمیشن لینے سے احتیاط کرنی چاہیے۔ ان شاء اللہ، اس کی وجہ سے اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کو بہترین بدلے سے نوازیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
البحر الرائق: (162/3، ط: دار الكتاب الإسلامي)
وبذل المال فيما هو مستحق عليه حد الرشوة اه.
بدائع الصنائع: (24/4، ط: دار الكتب العلمية)
لأنها لو أخذت الأجرة لأخذتها على عمل واجب عليها في الفتوى فكان في معنى الرشوة فلا يحل لها الأخذ
إعلاء السنن: (64/15، ط: إدارة القرآن والعلوم الإسلامية، كراتشي)
والحاصل: أن حد الرشوة هو ما يؤخذ عوضا عن واجب على الشخص، سواء كان واجبا على العين أو على الكفاية.
کذا فی التبویب فتاوی دار العلوم کراتشی: رقم الفتوی: (1343/96)
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی