resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: آیورویدک (Ayurvedic) ادویات کے استعمال کا حکم

(42124-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! ہم نے سنا ہے کہ بعض آیورویدک ادویات میں حرام اشیاء شامل کی جاتی ہیں، مثلاً خنزیر کی کھال یا اس سے حاصل ہونے والے اجزاء استعمال کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی سنا ہے کہ بعض کیپسول نما دواؤں کا بیرونی خول بھی انہی اجزاء سے تیار کیا جاتا ہے، نیز بعض دیگر حرام چیزیں بھی استعمال ہوتی ہیں جو جانوروں سے حاصل کی جاتی ہیں۔ براہِ کرم اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں کہ آیا آیورویدک (Ayurvedic) ادویات کا استعمال جائز ہے یا نہیں؟

جواب: آیورویدک (Ayurvedic) ادویات چونکہ عموماً جڑی بوٹیوں، نباتات اور معدنیات پر مشتمل ہوتی ہیں، اس لیے اصل کے اعتبار سے ان کا استعمال جائز اور حلال ہے۔ شریعت کا مسلّمہ اصول ہے کہ "یقین شک سے زائل نہیں ہوتا"؛ لہٰذا محض افواہوں، سنی سنائی باتوں یا بے بنیاد شبہات کی بنا پر کسی دوا کو حرام قرار نہیں دیا جا سکتا، جب تک معتبر ذرائع، اجزاء کی فہرست (Ingredients) یا کسی مستند تحقیق سے یقینی طور پر یہ ثابت نہ ہو جائے کہ اس میں خنزیر، خون یا کسی حرام جانور کے اجزاء شامل ہیں، البتہ اگر یہ بات یقینی طور پر ثابت ہو جائے کہ دوا میں کوئی حرام جز، خصوصاً خنزیر سے حاصل شدہ جیلاٹین (Porcine Gelatin) یا دیگر حرام مادے شامل ہیں تو عام حالات میں اس کا استعمال جائز نہیں ہوگا۔
خلاصہ کلام: آیورویدک ادویات کا استعمال اصولاً جائز ہے، بشرطیکہ ان میں کسی حرام جز کی موجودگی ثابت نہ ہو۔
نوٹ: اگر کسی چیز میں حرام اجزاء کی آمیزش کا شک شبہ یا ہو تو اس کے بارے میں کسی معتبر حلال سرٹیفکیشن ادارے (مثلاً: S.A.N.H.A) وغیرہ سے تصدیق کر لی جائے۔





۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*الدر المختار وحاشية ابن عابدين: (1/ 151، ط: دارالفکر)*
من شك في إنائه أو في ثوبه أو بدن أصابته نجاسة أو لا فهو طاهر ما لم يستيقن، وكذا الآبار والحياض والجباب الموضوعة في الطرقات ويستقي منها الصغار والكبار والمسلمون والكفار، وكذا ما يتخذه أهل الشرك أو الجهلة من المسلمين كالسمن والخبز والأطعمة والثياب اه ملخصا.

*غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر: (1/ 223، دار الكتب العلمية)*
[قاعدة الأصل في الأشياء الإباحة](91) قوله: الأصل في الأشياء الإباحة إلخ ذكر العلامة قاسم بن قطلوبغا في بعض تعاليقه أن المختار أن الأصل الإباحة عند جمهور أصحابنا، وقيده فخر الإسلام بزمن الفترة فقال: إن الناس لن يتركوا سدى في شيء من الأزمان، وإنما هذا بناء على زمن الفترة لاختلاف الشرائع ووقوع التحريفات، فلم يبق الاعتقاد، والوثوق على شيء من الشرائع فظهرت الإباحة بمعنى عدم العقاب، بما لم يوجد له محرم ولا مبيح انتهى. ودليل هذا القول قوله تعالى {خلق لكم ما في الأرض جميعا} [البقرة: 29] أخبر بأنه خلقه لنا على وجه المنة علينا، وأبلغ وجوه المنة إطلاق الانتفاع فتثبت الإباحة.

والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Medical Treatment