سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، محترم مفتی صاحب! امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ میں آپ سے ایک نہایت اہم اور حساس مسئلہ کے بارے میں شرعی رہنمائی چاہتا ہوں۔
میری بیوی کو تقریباً پانچ ماہ (21–22 ہفتے) کا حمل ہے۔ حال ہی میں ڈاکٹرز نے الٹراساؤنڈ اور دیگر معائنے کے بعد بتایا ہے کہ بچے کا پانی (amniotic fluid) تقریباً ختم (nil) ہو چکا ہے اور مسلسل لیکیج ہو رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بیوی کو شدید درد بھی ہو رہا ہے اور ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ماں کو انفیکشن ہونے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
ڈاکٹرز کی رائے ہے کہ اس حالت میں بچے کے زندہ رہنے کے امکانات بہت کم ہیں اور اگر حمل جاری رکھا گیا تو ماں کی صحت اور جان کو خطرہ ہو سکتا ہے، اس بنیاد پر وہ حمل ختم (abortion) کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔
اب ہم بہت پریشان ہیں اور شرعی رہنمائی چاہتے ہیں کہ کیا اس حالت میں جبکہ حمل کو 120 دن سے زیادہ ہو چکے ہیں اور ماں کی صحت یا جان کو خطرہ ہو تو حمل کو ختم کرنا شرعاً جائز ہے؟ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں تاکہ ہم صحیح فیصلہ کر سکیں۔ جزاکم اللہ خیراً
جواب: شریعتِ مطہّرہ کے مطابق حمل میں روح پڑنے کے بعد، یعنی تقریباً ایک سو بیس دن (چار ماہ) گزر جانے کے بعد اسقاطِ حمل اصل کے اعتبار سے ناجائز، قتلِ ناحق اور گناہِ کبیرہ ہے، اس لیے محض بچے کی کمزوری، معذوری یا اس کے زندہ نہ رہنے کے اندیشے کی بنا پر حمل ختم کرنا جائز نہیں ہوتا۔ تاہم اگر معتبر، ماہر اور دیانت دار ڈاکٹر حضرات کی متفقہ یا غالب رائے یہ ہو کہ بچے کا پانی (Amniotic Fluid) تقریباً ختم ہو چکا ہے، مسلسل لیکیج جاری ہے، بچے کے زندہ رہنے کے امکانات نہایت کم ہیں، اور حمل برقرار رکھنے کی صورت میں ماں کو شدید انفیکشن، جان لیوا پیچیدگی یا ہلاکت کا حقیقی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے تو ایسی اضطراری صورت میں فقہی اصولِ "ارتکابِ اخف الضررین" کے تحت ماں کی جان بچانے کے لیے حمل ختم کرنے کی گنجائش ہوگی، البتہ اس سے پہلے ضروری ہے کہ مزید مستند اور ماہر ڈاکٹرز سے بھی رجوع کیا جائے اور حتّی المقدور ایسی تمام طبّی تدابیر اختیار کی جائیں جن سے ماں اور بچے دونوں کی جان بچانے کی کوشش ہوسکے۔ اگر تمام تر کوششوں کے باوجود مزید مستند اور ماہر دیانتدار ڈاکٹر حضرات اس نتیجے پر پہنچیں کہ حمل جاری رکھنا ماں کے لیے شدید خطرناک ہے اور بچہ بھی غالباً زندہ نہیں رہ سکے گا تو ایسی صورت میں آپریشن یا طبّی طریقے سے حمل ختم کرنے کی شرعاً اجازت ہوگی اور امید ہے کہ اس پر گناہ نہیں ہوگا، ان شاء اللہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*الدرمع الشامیة (باب نکاح الرقیق،مطلب فی اسقاط الحمل، ج: 3، ص: 176، ط:دارالفكر بيروت)*
“وقالوا: يباح إسقاط الولد قبل أربعة أشهر ولو بلا إذن الزوج.
(قوله: وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم! يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوماً، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط؛ لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة، كذا في الفتح. وإطلاقهم يفيد عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذكورة على إذن الزوج. وفي كراهة الخانية: ولا أقول بالحل إذ المحرم لو كسر بيض الصيد ضمنه؛ لأنه أصل الصيد، فلما كان يؤاخذ بالجزاء فلا أقل من أن يلحقها إثم هنا إذا سقط بغير عذرها اه قال ابن وهبان: ومن الأعذار أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاكه. ونقل عن الذخيرة لو أرادت الإلقاء قبل مضي زمن ينفخ فيه الروح هل يباح لها ذلك أم لا؟ اختلفوا فيه، وكان الفقيه علي بن موسى يقول: إنه يكره، فإن الماء بعدما وقع في الرحم مآله الحياة فيكون له حكم الحياة كما في بيضة صيد الحرم، ونحوه في الظهيرية قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة على حالة العذر، أو أنها لاتأثم إثم القتل اه. وبما في الذخيرة تبين أنهم ما أرادوا بالتحقيق إلا نفخ الروح، وأن قاضي خان مسبوق بما مر من التفقه، والله تعالى الموفق اه .”
*فتاویٰ ہندیہ ( کتاب الکراهیة، الباب الثامن عشر: في التداوي والمعالجات وفیه العزل وإسقاط الولد، ج: 5، ص: 356، ط: دارالفكر بيروت)*
“العلاج لإسقاط الولد إذا استبان خلقه کالشعر والظفر ونحوهما لایجوز، وإن کان غیر مستبین الخلق یجوز … امرأة مرضعة ظهربها حبل وانقطع لبنها، وتخاف علی ولدها الهلاک، ولیس لأبي هذا الولد سعة حتی یستأجر الظئر یباح لها أن تعالج في استنزال الدم مادام نطفة أو مضغة أو علقة لم یخلق له عضو وخلقه لایستبین إلا بعد مائة وعشرین یوماً أربعون نطفةً وأربعون علقةً وأربعون مضغةً، کذا في خزانة المفتیین، وهکذا في فتاوی قاضي خان”.
*توضیح الأحکام من بلوغ المرام:5/609 مكتَبة الأسدي، مكّة المكرّمة*
قرارالمجمع المفقہ الاسلامی رقم: 71 (4/12) : بشأن موضوع إسقاط الجنين المشوه خلقياً.
الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده، سيدنا ونبينا محمد وعلى آله وصحبه وسلم. أما بعد:
فإن مجلس المجمع الفقهي الإسلامي، برابطة العالم الإسلامي، في دورته الثانية عشرة، المنعقدة بمكة المكرمة، في الفترة من يوم السبت 15 رجب 1410ه الموافق 10 فبراير 1990م إلى يوم السبت 22 رجب 1410ه الموافق 17 فبراير 1990م قد نظر في هذا الموضوع، وبعد مناقشته من قبل هيئة المجلس الموقرة، ومن قبل أصحاب السعادة الأطباء المختصين، الذين حضروا لهذا الغرض، قرر بالأكثرية ما يلي:
إذا كان الحمل قد بلغ مائة وعشرين يوماً، لا يجوز إسقاطه، ولو كان التشخيص الطبي يفيد أنه مشوه الخلقة: إلا إذا ثبت بتقرير لجنة طبية، من الأطباء الثقات المختصين، أن بقاء الحمل، فيه خطر مؤكد على حياة الأم، فعندئذ يجوز إسقاطه، سواء كان مشوهاً أم لا، دفعاً لأعظم الضررين.
قبل مرور مائة وعشرين يوماً على الحمل، إذا ثبت وتأكد بتقرير لجنة طبية من الأطباء المختصين الثقات - وبناء على الفحوص الفنية، بالأجهزة والوسائل المختبرية - أن الجنين مشوه تشويهاً خطيراً، غير قابل للعلاج، وأنه إذا بقي وولد في موعده ، ستكون حياته سيئة ، وآلاماً عليه وعلى أهله، فعندئذ يجوز إسقاطه بناء على طلب الوالدين، والمجلس إذ يقرر ذلك: يوصي الأطباء والوالدين، بتقوى الله، والتثبت في هذا الأمر. والله ولي التوفيق
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی