resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: پی آر پی (PRP) کے ذریعے بالوں کے علاج کا شرعی حکم

(41938-No)

سوال: مفتی صاحب! آج کل بالوں کے گرنے اور گنج پن کے علاج کے لیے ایک طریقہ رائج ہے، جس کا نام پی آر پی (Platelet-Rich Plasma) ہے، اس میں مریض کا اپنا خون تقریباً دس سے بیس ملی لیٹر لیا جاتا ہے، پھر مشین کے ذریعہ اس خون میں سے پلازما (Plasma ) علیحدہ کیا جاتا ہے، جس میں پلیٹلیٹس (Platelets) کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، بعد ازاں انسولین سوئی کے ذریعے سر کی جلد میں لگایا جاتا ہے تاکہ بالوں کا گرنا رک جائے اور بال دوبارہ اگنے لگیں۔
چونکہ اس علاج میں مریض کا اپنا ہی خون استعمال ہوتا ہے اور یہ علاج کی گرض سے کیا جاتا ہے۔ نیز اس میں کسی دوسرے انسان یا جانور کا خون استعمال نہی ہوتا تو کیا پی آر پی(PRP) کے ذریعے بالوں کا علاج کروانا جائز ہے؟

جواب: پوچھی گئی صورت میں مذکورہ طریقہ علاج (PRP) میں انسانی خون کا ایک جز (پلازما) استعمال ہوتا ہے۔ چونکہ انسانی خون بدن سے نکلنے کے بعد نجس اور حرام ہو جاتا ہے، اس لیے بنیادی طور پر یہ "تداوی بالحرام" (حرام اشیاء سے علاج) کے زمرے میں آتا ہے۔
شریعتِ مطہّرہ نے تداوی بالحرام کی اجازت صرف اس وقت دی ہے جب جان جانے کا اندیشہ ہو یا کسی عضو کے تلف ہونے کا خطرہ ہو؛ محض زینت اور تحسین (خوبصورتی میں اضافے) کے لیے نجس اشیاء کا استعمال جائز نہیں ہے۔
چونکہ بالوں کا گرنا یا گنج پن عام طور پر محض زینت کا مسئلہ ہوتا ہے، لہٰذا عام حالات میں اس کی اجازت نہیں ہوگی۔
البتہ اگر بالوں کا گرنا یا گنج پن اس حد تک پہنچ جائے کہ وہ بدنما عیب معلوم ہونے لگے، جس کی وجہ سے متعلّقہ شخص شدید نفسیاتی اذیت یا لوگوں میں رسوائی محسوس کرتا ہو تو "ازالہِ عیب" (عیب دور کرنے) کی خاطر درج ذیل شرائط کے ساتھ اس کی گنجائش ہوگی:
1) محض فیشن یا حسن میں اضافے کے لیے یہ عمل نہ کیا جائے، بلکہ اسے عرفاً عیب شمار کیا جاتا ہو جس سے انسان کو (نفسیاتی یا سماجی) تکلیف ہوتی ہو۔
2) بالوں کے گرنے کو روکنے کے لیے کوئی دوسرا پاک اور حلال طریقہ علاج (مثلاً ادویات وغیرہ) مؤثّر ثابت نہ ہو رہا ہو۔
3) کسی ماہر اور دیانتدار ڈاکٹر نے یہ مشورہ دیا ہو کہ اس مرض کا حل اسی طریقے میں مضمر ہے۔
خلاصہ یہ کہ اگر گنج پن ایک ظاہری عیب بن چکا ہو اور کوئی دوسرا حلال متبادل موجود نہ ہو تو ازالہِ عیب کی نیت سے اس کی اجازت ہوگی، ورنہ محض فیشن کے لیے اس سے بچنا لازم ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل :

الدر المختار: (1/ 210، ط: دار الفكر-بيروت)
اختلف في التداوي بالمحرم وظاهر المذهب المنع كما في رضاع البحر، لكن نقل المصنف ثمة وهنا عن الحاوي: وقيل يرخص إذا علم فيه الشفاء ولم يعلم دواء آخر كما رخص الخمر للعطشان وعليه الفتوى

حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (1/ 210، ط: دار الفكر-بيروت)
في الحاوي القدسي: إذا سال الدم من أنف إنسان ولا ينقطع حتى يخشى عليه الموت وقد علم أنه لو كتب فاتحة الكتاب أو الإخلاص بذلك الدم على جبهته ينقطع فلا يرخص له فيه؛ وقيل يرخص كما رخص في شرب الخمر للعطشان وأكل الميتة في المخمصة وهو الفتوى. اه (قوله ولم يعلم دواء آخر) هذا المصرح به في عبارة النهاية كما مر وليس في عبارة الحاوي، إلا أنه يفاد من قوله كما رخص إلخ؛ لأن حل الخمر والميتة حيث لم يوجد ما يقوم مقامهما.

مسند أحمد مخرجا: (31/ 344،رقم الحدیث 19006)
عن عبد الرحمن بن طرفة، أن جده عرفجة أصيب أنفه يوم الكلاب في الجاهلية، فاتخذ أنفا من ورق، فأنتن عليه، «فأمره النبي صلى الله عليه وسلم أن يتخذ أنفا من ذهب»

والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دارالافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Medical Treatment