سوال:
کیا مسلم ڈاکٹر قادیانی مریض کا علاج کر سکتا ہیں جبکہ ڈاکٹر کا اپنا ہسپتال ہو اور وہ انکو منع کرنے پر قادر ہو؟
جواب: واضح رہے کہ قادیانی ملحد اور زندیق ہیں، ان کا حکم عام کافروں سے مختلف ہے، یہ لوگ نہ صرف یہ کہ دین اسلام کے بنیادی عقائد کی من مانی تشریح کرتے ہیں بلکہ ان باطل عقائد کا پرچار کرتے ہوئے خود کو حقیقی مسلمان اور پوری امت مُسلِمہ محمّدیہ کو کافر قرار دیتے ہیں، اسی لیے علماء کرام نے ان کے ساتھ ہر قسم کا تعلّق رکھنے سے منع کیا ہے، منجملہ ان تعلّقات کے کاروباری تعلق بھی ہے، یعنی قادیانیوں کے ساتھ کاروباری تعلق رکھنا بھی درست نہیں ہے، علاج کرنا چونکہ اجرت کی ایک قسم ہے اس لیے اس کا بھی یہی حکم ہے، البتہ اگر کوئی مسلمان کسی قادیانی کا علاج کرتا ہے اور اس سے اس کو کچھ رقم بطور اجرت حاصل ہوتی ہے تو اس رقم کو حرام نہیں کہا جائے گا۔
اسی طرح اگر کوئی ایسا قادیانی مریض آ جائے جس کی جان یا کسی عضو کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اس قادیانی مریض کو نقصان سے بچانے کے لیے اس کا علاج کرنا جائز ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*الإرشاد إلى سبيل الرشاد: (ص: 466، ط: مؤسسة الرسالة)*
"والزنديق هو: الذي يُظهر الإيمان ويستر الكفر".
*کذا فی فتویٰ جامعہ بنوری تاؤن: (فتویٰ نمبر : 144108201176)*
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی