سوال:
سوال یہ کرنا تھا کہ ایک گائے کے انڈے لیکر اس میں بیل کے نطفہ کے ساتھ پراسیس کرکے بیج بناکر پھر دوسری گائے میں رکھنا تاکہ گائے سے دودھ زیادہ حاصل کیا جائے اور نسل اچھی بنے، اس مقصد کے لیے یہ عمل کرنا شرعاً کیسا ہے؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں افزائشِ نسل یا زیادہ دودھ حاصل کرنے کے لیے گائے کے بیضہ (Cow egg cells) اور بیل کے نطفے (Bull semen) کو پراسیس (process) کرکے بیج (seed) بنا کر دوسری گائے کے رحم میں منتقل کرنے کی گنجائش ہے، لیکنِ یہ طریقہ چونکہ خلافِ فطرت ہے، لہٰذا ضرورت کے بغیر اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:
الفتاوىٰ الهندية: (297/5، ط: دار الفكر)
فإن كان متولدا من الوحشي والإنسي فالعبرة للأم، فإن كانت أهلية تجوز وإلا فلا، حتى لو كانت البقرة وحشية والثور أهليا لم تجز، وقيل: إذا نزا ظبي على شاة أهلية، فإن ولدت شاة تجوز التضحية، وإن ولدت ظبيا لا تجوز، وقيل: إن ولدت الرمكة من حمار وحشي حمارا لا يؤكل، وإن ولدت فرسا فحكمه حكم الفرس، وإن ضحى بظبية وحشية أنست أو ببقرة وحشية أنست لم تجز.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی