resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: نَر جانور کا ُنطفہ لے کر مادّہ جانور کے رحم میں مصنوعی طریقے سے منتقل کرنے کا حکم

(39926-No)

سوال: آج کل جانوروں خصوصاً گائے میں IVF (In Vitro / In Vivo Fertilization) اور ایمبریو ٹرانسفر (Embryo Transfer) کا طریقہ استعمال کیا جاتا ہے، جس میں ایک گائے یا بیل کا نطفہ لے کر دوسرے گائے کے رحم میں منتقل کیا جاتا ہے اور اس طرح اس سے بچہ پیدا کیا جاتا ہے۔
اس عمل کا مقصد عموماً زیادہ دودھ حاصل کرنا اور جانوروں کی نسل کو بہتر بنانا ہوتا ہے۔
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ:
کیا یہ طریقہ شرعاً جائز ہے یا ناجائز؟
کیا اس میں کسی قسم کی شرعی قباحت یا ممانعت پائی جاتی ہے؟
نسل کی بہتری اور دودھ کی پیداوار بڑھانے کی نیت سے اس عمل کا کیا حکم ہے؟
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں اس مسئلہ کا حکم واضح فرما دیں۔
جزاکم اللہ خیراً

جواب: واضح رہے کہ نسل کی بہتری یا زیادہ دودھ حاصل کرنے کے لیے نَر جانور کا نُطفہ لے کر مادّہ جانور کے رحم میں پہنچانے کی گنجائش ہے، لیکن یہ طریقہ چونکہ خلافِ فطرت ہے، اس لیے ضرورت کے بغیر اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

الفتاوىٰ الهندية: (297/5، ط: دار الفكر)
فإن كان متولدا من الوحشي والإنسي فالعبرة للأم، فإن كانت أهلية تجوز وإلا فلا، حتى لو كانت البقرة وحشية والثور أهليا لم تجز، وقيل: إذا نزا ظبي على شاة أهلية، فإن ولدت شاة تجوز التضحية، وإن ولدت ظبيا لا تجوز، وقيل: إن ولدت الرمكة من حمار وحشي حمارا لا يؤكل، وإن ولدت فرسا فحكمه حكم الفرس، وإن ضحى بظبية وحشية أنست أو ببقرة وحشية أنست لم تجز.

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Halaal & Haram In Eatables