resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: لائف سپورٹ (Life Support)، وینٹی لیٹر (Ventilator) اور پیس میکر (Pacemakers) ہٹانے کے شرعی احکام

(42099-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میں اسلام میں ایک اہم مسئلے کے بارے میں رہنمائی حاصل کرنا چاہتا ہوں جو ان مسلمان مریضوں سے متعلق ہے جو انتہائی نازک حالت میں لائف سپورٹ مشینوں پر ہوتے ہیں۔
بہت سے مریض لمبے عرصے تک وینٹی لیٹر پر رہتے ہیں اور مکمل بے ہوش ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اگر وینٹی لیٹر ہٹا دیا جائے تو مریض فوراً وفات پا جائے گا۔ بعض اوقات مریض میں صحت یابی کی کوئی واضح امید بھی نہیں ہوتی، جبکہ انشورنس کمپنیاں علاج اور ہسپتال کے اخراجات ادا کرتی رہتی ہیں۔
اسی طرح کچھ مریض ایسے ہوتے ہیں جن کا دل بہت کمزور ہوتا ہے، مثلاً %25 یا %50 کام کرتا ہے، اور وہ صرف ہارٹ ڈیوائس، پیس میکر یا بیٹری کی مدد سے زندہ ہوتے ہیں۔ اگر یہ ڈیوائس ہٹا دی جائے تو ان کی وفات ہو سکتی ہے کیونکہ ان کا دل خود صحیح طریقے سے کام نہیں کر رہا ہوتا۔
اس ضمن میں میرے سوالات یہ ہیں:
1) اسلام ایسے مریض کے بارے میں کیا حکم دیتا ہے جو لمبے عرصے سے لائف سپورٹ پر ہو اور صحت یابی کی امید نہ ہو؟
2) اگر ڈاکٹر یہ کہیں کہ مریض کے صحت یاب ہونے کی امید نہیں، تو کیا اسلام میں وینٹی لیٹر یا لائف سپورٹ ہٹانا جائز ہے؟
3) ایسے ہارٹ سپورٹ ڈیوائسز یا پیس میکر کے بارے میں اسلامی حکم کیا ہے جو کسی انسان کو زندہ رکھنے کا ذریعہ ہوں؟
4) شریعت کے مطابق گھر والے، ڈاکٹرز یا علماء میں سے ایسے فیصلے کون کرے؟
5) اسلام ایسے حالات میں تکلیف، رحم، اور زندگی کو مصنوعی طور پر برقرار رکھنے کے بارے میں کیا رہنمائی دیتا ہے؟
براہِ کرم قرآن، سنت اور مستند اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس مسئلے کی وضاحت فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً

جواب: 1) اس مسئلے میں اصولی بات یہ ہے کہ اسلام میں علاج کروانا اس وقت تک مشروع (اور بعض صورتوں میں واجب) ہے، جب تک شفا یا افادیت کی کوئی معقول امید ہو۔ اگر ماہر اور معتمد ڈاکٹرز متفقہ طور پر یہ فیصلہ کر دیں کہ مریض کی بیماری ناقابلِ علاج ہو چکی ہے اور صحت یابی کی کوئی امید باقی نہیں رہی ہے تو ایسی حالت میں لائف سپورٹ کے ذریعے محض مصنوعی طور پر زندگی کو طول دینا شرعاً لازم نہیں رہتا۔
2) جی ہاں! مخصوص شرائط کے ساتھ لائف سپورٹ (Life Support) یا وینٹی لیٹر (Ventilator) ہٹانا شرعاً جائز ہے اور اسے قتلِ نفس (خودکشی یا قتل) شمار نہیں کیا جائے گا، بلکہ اسے قدرتی موت کے عمل کو جاری رہنے دینا قرار دیا جائے گا۔ اس کی دو بنیادی صورتیں ہیں:
١) دماغی موت (Brain Death): جب مستند ڈاکٹرز کی کمیٹی یہ تصدیق کر دے کہ مریض کے پورے دماغ بشمول برین اسٹیم (Brain Stem) نے مستقل اور ناقابلِ واپسی طور پر کام کرنا بند کر دیا ہے تو شرعاً اسے "حکماً مردہ" مانا جا سکتا ہے، خواہ مشین کی وجہ سے دل دھڑک رہا ہو۔ اس صورت میں مشین ہٹانا جائز ہے۔
۲) علاج کی نا امیدی (مرض الموت): برین ڈیتھ نہ بھی ہوئی ہو، لیکن اعضاء مکمل ناکارہ (Multi-organ Failure) ہو چکے ہوں اور ڈاکٹرز کے نزدیک لائف سپورٹ صرف موت کے قدرتی وقت کو وقتی طور پر مؤخّر کر رہی ہو، تب بھی اسے ہٹانا جائز ہے۔
3) پیس میکر اور ہارٹ ڈیوائسز (Pacemakers and Heart Devices) کا حکم وینٹی لیٹر سے تھوڑا مختلف ہے:عام حالت میں جب تک مریض کا باقی جسمانی نظام فعال ہو اور وہ ان آلات (پیس میکر/بیٹری) کی مدد سے ایک حد تک مستقل یا معمول کی زندگی گزار سکتا ہو تو ان آلات کو بند کرنا یا نکالنا جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ براہِ راست جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ یہاں %25 یا %50 دل کا کام کرنا بھی زندگی کی علامت ہے۔
البتہ اگر مریض آخری حالت میں (برین ڈیتھ یا ملٹی آرگن فیلر) میں پہنچ جائے جہاں معالجین کے نزدیک اب واپسی کی کوئی راہ نہ ہو اور مریض آخری سانسوں پر ہو تو پھر ان آلات کو بھی لائف سپورٹ کی طرح بند کرنے کی گنجائش ہوگی۔
4) شریعتِ مطہّرہ کے مطابق اس حسّاس معاملے کا فیصلہ انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی مشاورت سے ہوگا، جس میں تینوں طبقات کا اپنا اپنا کردار ہے:
الف) ڈاکٹرز (تشخیص): کم از کم تین ماہر، دیانت دار اور تجربہ کار مسلم ڈاکٹرز مریض کی طبّی حالت کا حتمی جائزہ لے کر یہ طے کریں گے کہ آیا حالت ناقابلِ واپسی ہے یا نہیں۔ (اصل فیصلہ طبّی بنیاد پر ڈاکٹرز کا ہی معتبر ہے)۔
ب) اہلِ خانہ/ ورثاء (اجازت): ڈاکٹرز کی حتمی رپورٹ اور رائے سامنے آنے کے بعد لائف سپورٹ ہٹانے کی حتمی قانونی و اخلاقی اجازت دینے کا اختیار مریض کے اولیاء (گھر والوں) کو ہوگا۔
ج) علماء کرام (رہنمائی): علماء کا کام اس سلسلے میں عمومی اصولِ شریعت واضح کرنا ہے (جیسا کہ یہاں کیا جا رہا ہے)، وہ ہر انفرادی مریض کی طبّی حالت خود تشخیص نہیں کر سکتے۔
5) اسلامی قواعد کے مطابق زندگی اللہ کی امانت ہے، لیکن شریعت "لا ضرر ولا ضرار" (نہ خود نقصان اٹھاؤ، نہ دوسرے کو پہنچاؤ) کے اصول پر قائم ہے۔
اگر مشینوں پر مریض کو برقرار رکھنا اس کے لیے شدید تکلیف، اذیت اور بے فائدہ مشقّت کا سبب بن رہا ہو اور شفا کی کوئی امید بھی نہ ہو تو محض مصنوعی سانسیں چلانے کے لیے اسے اس کیفیت میں رکھنا شریعت کی روح کے خلاف ہے۔
قدرتی موت کے عمل کو تسلیم کرنا اور لائف سپورٹ ہٹا کر مریض کو اللہ کے سپرد کرنا ہی ایسے حالات میں اس پر حقیقی رحم اور شفقت ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے:وَلَن يُؤَخِّرَ اللَّهُ نَفْسًا إِذَا جَاءَ أَجَلُهَا"اور جب کسی کی مقرّرہ موت کا وقت آجاتا ہے تو اللہ اسے ہرگز مہلت نہیں دیتا۔" (سورۃ المنافقون: 11)
خلاصہ کلام:
اگر ماہر اور معتبر ڈاکٹرز متفقہ طور پر یہ فیصلہ کر دیں کہ مریض یا تو برین ڈیتھ کا شکار ہو چکا ہے یا اس کی صحت یابی کی کوئی امید باقی نہیں رہی اور لائف سپورٹ صرف مصنوعی طور پر سانس یا دل کی حرکت برقرار رکھے ہوئے ہے تو ایسی صورت میں اولیاء کی اجازت سے لائف سپورٹ ہٹانا شرعاً جائز ہوگا، اور اسے گناہ یا قتلِ نفس قرار نہیں دیا جائے گا، البتہ جب تک زندگی اور صحت یابی کی امید یا جسمانی نظام کی مؤثّر فعالیت موجود ہو، تب تک جان بچانے والے آلات (خصوصاً پیس میکر وغیرہ) کو بند کرنا جائز نہیں ہوگا۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

*القرآن الکریم: (سورۃ المنافقون، آیت: 11)*
وَلَن يُؤَخِّرَ اللَّهُ نَفْسًا إِذَا جَاءَ أَجَلُهَا

*وفی مقام اخر: (سورۃ الانعام، آیت: 151)*
وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ

*سنن الترمذي ت بشار: (3/ 451، رقم الحدیث: 2038)*
عن أسامة بن شريك، قال: قالت الأعراب: يا رسول الله، ألا نتداوى؟ قال: نعم، يا عباد الله تداووا، فإن الله لم يضع داء إلا وضع له شفاء، أو قال: دواء إلا داء واحدا قالوا: يا رسول الله، وما هو؟ قال: الهرم.

*البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري: (3/ 230، ط: دار الكتاب الإسلامي)*
المشقة تجلب التيسير، والله تعالى الميسر لكل عسير اه.

*قرارمجمع الفقہ الاسلامی رقم: 17 (3/5, مجلة المجمع (العدد الثالث، 523/2)*
بشأن أجهزة الإنعاش
إن مجلس مجمع الفقه الإسلامي الدولي المنعقد في دورة مؤتمره الثالث بعمان عاصمة المملكة الأردنية الهاشمية من 8-13 صفر 1407ه، الموافق 11-16 تشرين الأول (أكتوبر) 1986م،
بعد تداوله في سائر النواحي التي أثيرت حول: موضوع أجهزة الإنعاش، واستماعه إلى شرح مستفيض من الأطباء المختصين،
قرر ما يلي:
يعتبر شرعًا أن الشخص قد مات، وتترتب جميع الأحكام المقررة شرعًا للوفاة عند ذلك، إذا تبينت فيه إحدى العلامتين التاليتين:
1- إذا توقف قلبه وتنفسه توقفًا تامًّا، وحكم الأطباء بأن هذا التوقف لا رجعة فيه.
2- إذا تعطلت جميع وظائف دماغه تعطلًا نهائيًّا، وحكم الأطباء الاختصاصيون الخبراء بأن هذا التعطل لا رجعة فيه، وأخذ دماغه في التحلل.
وفي هذه الحالة يسوغ رفع أجهزة الإنعاش المركبة على الشخص، وإن كان بعض الأعضاء، كالقلب مثلًا، لا يزال يعمل آليًّا بفعل الأجهزة المركبة. والله أعلمِ.

والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Medical Treatment