سوال:
السلام علیکم، مفتی صاحب / محترم علمائے کرام! امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔
میں ایک نہایت حساس اور اہم مسئلے کے سلسلے میں آپ سے اسلامی رہنمائی حاصل کرنا چاہتا ہوں، یہ معاملہ پاکستان کی ایک 27 سالہ مسلمان خاتون کا ہے۔
وہ پیدائشی طور پر حیاتیاتی اعتبار سے عورت ہیں اور ان کے تمام نسوانی تولیدی اعضاء موجود ہیں، تاہم تقریباً 3 سال کی عمر ہی سے ان کی سوچ، احساسات اور اپنی ذات کے بارے میں شناخت ہمیشہ مردانہ رہی ہے۔
بچپن ہی سے وہ لڑکوں کے کپڑے پہنتی رہی ہیں اور لڑکیوں کے لباس سے شدید نفرت محسوس کرتی ہیں۔
وہ ہمیشہ لڑکوں کے ساتھ زیادہ راحت محسوس کرتی رہی ہیں اور خود کو مرد سمجھتی رہی ہیں۔
اگر ان کے ساتھ لڑکی کی حیثیت سے برتاؤ کیا جائے تو انہیں شدید ذہنی اذیت ہوتی ہے۔
بلوغت کے بعد جب ان کے سینے کی نشوونما ہوئی تو وہ ہمیشہ اسے چھپانے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔
ہر ماہ حیض کے دوران انہیں شدید ذہنی اور جذباتی تکلیف ہوتی ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ یہ سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے۔
وہ چاہتی ہیں کہ لوگ انہیں مردانہ نام اور مذکر ضمائر سے مخاطب کریں۔
وہ پوری زندگی مرد کی حیثیت سے گزارنا چاہتی ہیں اور ان کی ازدواجی رغبت صرف عورتوں کی طرف ہے۔
یہ تمام احساسات اور کیفیات 20 سال سے زائد عرصے سے مسلسل موجود ہیں، جس کی وجہ سے وہ ڈپریشن، اضطراب اور نیند کے مسائل کا بھی شکار ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ Gender Dysphoria کی تشخیص صرف ماہر نفسیات اور دیگر متعلقہ طبی ماہرین ہی مکمل طبی معائنے کے بعد کرسکتے ہیں اور ہم اس سلسلے میں ان سے بھی مشورہ کر رہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ہم قرآن و سنت کی روشنی میں صحیح اسلامی رہنمائی بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں، براہِ کرم درج ذیل سوالات کے جوابات قرآن، صحیح احادیث، کلاسیکی فقہ اور اگر ممکن ہو تو معاصر فتاویٰ کی روشنی میں عنایت فرمائیں:
1) اگر ماہر نفسیات اور دیگر مستند ڈاکٹرز مکمل طبی معائنے کے بعد Gender Dysphoria کی تشخیص کریں تو کیا اسلام میں ہارمون تھراپی اور جنس کی تبدیلی کی سرجری کی اجازت ہے؟
2) اگر سرجری مکمل ہوجائے تو کیا شریعت کی نظر میں اس شخص کو مرد تسلیم کیا جائے گا یا عورت؟
3) کیا ایسی صورت میں اس کا کسی عورت سے نکاح جائز ہوگا؟
4) نماز، محرم و نامحرم کے احکام، وراثت اور دیگر شرعی احکام کس بنیاد پر لاگو ہوں گے؟ براہِ کرم اپنی رائے کے ساتھ قرآن کریم، صحیح احادیث اور معتبر فقہی کتب کے حوالہ جات بھی ذکر فرما دیں۔
ہمارا مقصد کسی شرعی حکم کو چیلنج کرنا نہیں، بلکہ قرآن و سنت کی روشنی میں اس مخصوص طبی معاملے کے بارے میں صحیح اور واضح رہنمائی حاصل کرنا ہے۔ جزاکم اللہ خیراً
جواب: 1) اگر معتبر طبی معائنے سے یہ ثابت ہو جائے کہ متعلقہ شخص پیدائشی طور پر مکمل عورت ہے، اس کے تولیدی اعضاء، کروموسومز اور حیاتیاتی ساخت نسوانی ہے اور اس میں کسی قسم کا خلقی جنسی ابہام موجود نہیں، بلکہ مسئلہ صرف Gender Dysphoria یا نفسیاتی کیفیت کا ہے تو ایسی صورت میں مرد بننے کے لیے ہارمون تھراپی یا جنس کی تبدیلی کی سرجری شرعاً ناجائز اور حرام ہے، کیونکہ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں بلا عذر تبدیلی سے منع فرمایا گیا ہے: (وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّهِ)( النساء: 119)، نیز رسول اللہ ﷺ نے مردوں کی عورتوں سے اور عورتوں کی مردوں سے مشابہت اختیار کرنے پر لعنت فرمائی ہے، اس لیے جب حقیقتاً وہ عورت ہے تو محض نفسیاتی احساس یا مصنوعی جراحی اس کی شرعی حیثیت کو تبدیل نہیں کرسکتی۔
2) اگر متعلقہ شخص جنس کی تبدیلی کی سرجری کروا بھی لے اور ہارمونز کے ذریعے ظاہری جسمانی ساخت میں تبدیلی پیدا کر لے، تب بھی شرعی اعتبار سے وہ عورت ہی شمار ہوگی؛ کیونکہ فقہِ اسلامی میں جنس کا اعتبار انسان کی اصل پیدائشی حقیقت، خلقی ساخت اور حیاتیاتی جنس سے ہوتا ہے، نہ کہ بعد میں کی گئی مصنوعی تبدیلیوں سے، لہٰذا سرجری اس کی شرعی حقیقت کو تبدیل نہیں کرتی اور وہ احکامِ شریعت میں بدستور عورت ہی رہے گی۔
3) نہیں، ایسی صورت میں اس کا کسی عورت سے نکاح شرعاً جائز نہیں ہوگا، کیونکہ اسلامی شریعت میں نکاح صرف ایک مرد اور ایک عورت کے درمیان صحیح ہوتا ہے اور چونکہ مذکورہ شخص شرعی اعتبار سے عورت ہی ہے، اس لیے اس کا کسی دوسری عورت کے ساتھ نکاح باطل اور ناجائز ہوگا اور ایسا تعلق شرعی نکاح نہیں بلکہ ہم جنس پرستی والے تعلق کے حکم میں شمار ہوگا، جس کی اسلام میں اجازت نہیں۔
4) چونکہ شرعی اعتبار سے اس کی اصل حیثیت عورت کی ہے، اس لیے اس پر تمام شرعی احکام بھی عورت ہی کے نافذ ہوں گے، یعنی نماز، روزہ اور دیگر عبادات عورت کی حیثیت سے ادا کرے گی، حیض کی صورت میں عورتوں والے احکام اس پر جاری ہوں گے، نامحرم مردوں سے پردہ کرنا لازم ہوگا، محرم و نامحرم کے احکام عورت کے اعتبار سے نافذ ہوں گے، وراثت میں عورت ہی کا حصہ ملے گا اور وہ کسی عورت کے لیے نہ شوہر بن سکتی ہے اور نہ ہی اس کے لیے محرم قرار پائے گی۔
*خلاصہ:*
اگر کوئی شخص طبی اعتبار سے مکمل عورت ہو اور اس میں کوئی خلقی جنسی ابہام موجود نہ ہو، بلکہ صرف نفسیاتی طور پر خود کو مرد محسوس کرتا ہو تو جنس کی تبدیلی کی سرجری اور مردانہ ہارمون تھراپی شرعاً ناجائز ہے، سرجری کے بعد بھی وہ شرعاً عورت ہی شمار ہوگی، کسی عورت سے اس کا نکاح جائز نہیں ہوگا، اور اس پر عبادات، پردہ، وراثت اور دیگر تمام شرعی احکام عورت ہی کے اعتبار سے نافذ ہوں گے، البتہ اس کی نفسیاتی تکلیف حقیقی ہے، اس لیے اسے کسی دیانت دار اور ماہرِ نفسیات ڈاکٹر سے علاج کرانا چاہیے اور شریعت کی حدود کی پابندی کرتے ہوئے اس آزمائش پر صبر اور استقامت اختیار کرنی چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:
*القرآن الکریم: ( النساء: الایة: 119)*
وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّهِ
*صحيح البخاري: (كتاب اللباس، باب المتشبهون بالنساء، والمتشبهات بالرجال: رقم الحدیث:5885، ط: دار طوق النجاة)*
عن قتادة، عن عكرمة، عن ابن عباس رضي الله عنهما، قال:" لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم المتشبهين من الرجال بالنساء، والمتشبهات من النساء بالرجال"
*قرارات المجمع الفقهي الإسلامي: [الدورة الحادية عشرة۲۹۱]*
شأن تغيير الذكر إلى أنثى، أو إخضاعه، أو إطرافه الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده، سيدنا ونبينا محمد، وعلى آله وصحبه وسلم. أما بعد: فإن مجلس المجمع الفقهي الإسلامي، برابطة العالم الإسلامي، في دورته الحادية عشرة، المنعقدة بمكة المكرمة، في الفترة من يوم الأحد ۱۳ رجب ۱٤۰۹ ه الموافق ۱۹ فبراير ۱۹۸۹ م إلى يوم الأحد ۲۰ رجب ۱٤۰۹ ه الموافق ۲٦ فبراير ۱۹۸۹ م قد نظر في موضوع تحويل الذكر إلى أنثى، وبالعكس. وبعد البحث والمناقشة بين أعضائه: قرر ما يلي:
أولاً: الذكر الذي كملت أعضاء ذكورته، والأنثى التي كملت أعضاء أنوثتها، لا يحل تحويل أحدهما إلى النوع الآخر، ومحاولة التحويل جريمة يستحق فاعلها العقوبة لأنه تغيير لخلق الله، وقد حرم سبحانه هذا التغيير، بقوله تعالى، مخبراً عن قول الشيطان: ﴿ولآمرنهم فليغيرن خلق الله﴾ (النساء: ۱۱۹) فقد جاء في صحيح مسلم، عن ابن مسعود أنه قال: (لعن الله الواشمات والمستوشمات، والنامصات والمتنمصات، والمتفلجات للحسن، المغيرات خلق الله عز وجل)، ثم قال: ألا ألعن من لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم، وهو في كتاب الله -عز وجل- يعني قوله: ﴿وما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا﴾ (الحشر: ۷).
ثانياً: أما من اجتمع في أعضائه علامات النساء والرجال، فينظر فيه إلى الغالب من حاله، فإن غلبت عليه الذكورة جاز علاجه طبياً بما يزيل الاشتباه في ذكورته، ومن غلبت عليه علامات الأنوثة، جاز علاجه طبياً، بما يزيل الاشتباه في أنوثته، سواء أكان العلاج بالجراحة، أم بالهرمونات، لأن هذا مرض، والعلاج يقصد به الشفاء منه، وليس تغييراً لخلق الله عز وجل.
وصلى الله على سيدنا محمد، وعلى آله وصحبه وسلم تسليماً كثيراً والحمد لله رب العالمين.
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی