سوال:
ایک خاتون جس کو سات مہینے کا حمل ہے، بچہ کا گروتھ نہیں ہورہا ہے Down syndrome and growth restrictions رپورٹس یہ بتارہی ہیں بچہ کسی نقص کے ساتھ پیدا ہوگا، اس لیے ڈاکٹرز abortion کا مشورہ دے رہے ہیں، ایسی صورتحال میں کیا فیصلہ لیں؟ کچھ رہنمائی کریں۔
جواب: واضح رہے کہ عام طور پر چار ماہ کے بعد حمل میں روح پڑ جاتی ہے، اور روح پڑ جانے کے بعد کسی معتبر شرعی عذر کے بغیر اسقاطِ حمل جائز نہیں، اور سوال میں مذکور عذر شرعاً متعبر نہیں، لہٰذا سوال میں مذکور صورت میں چونکہ حمل ساتویں مہینے میں ہے، اس لیے بچے میں Down syndrome یا Growth Restriction جیسے نقص کی وجہ سے اسقاطِ حمل کرانا جائز نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الكريم: (الإسراء، الآية: 31)
وَلاَ تَقْتُلُواْ أَوْلادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلاقٍ نَّحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُم إنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطأ كَبِيرًا o
المحيط البرهاني: (374/5، ط: دار الكتب العلمية، بيروت)
وبعدما وصل الماء إلى رحمها إذا أرادت الإلقاء هل يباح لها ذلك: إن أرادت ذلك بعد مضي مدة ينفخ فيه الروح، فليس لها ذلك؛ لأنها تصير قاتلة؛ فإنه اعتبر هنا على غلبة الظاهر، فلا يحل لها كما بعد الانفصال، وإن أرادت الإلقاء قبل مضي مدة ينفخ فيه الروح؛ اختلف المشايخ فيه؛ قال بعضهم: يحل لها ذلك؛ لأن قبل مضي المدة التي ينفخ فيه الروح لا حكم لها، فهذا والعزل سواء.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی