resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: کوشر (Koshar) اور ویگن (Vegan) ٹیگ والی مصنوعات کا حکم

(65749-No)

سوال: کیا مسلمان کے لیے ایسی سپلیمنٹ یا دوا استعمال کرنا جائز ہے جس پر صرف Kosher سرٹیفیکیشن ہو، لیکن وہ Vegan بھی ہو؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا یہودیوں کے ہاں استعمال ہونے والی الکحل بھی شرعاً جائز ہوتی ہے؟

جواب: سوال میں مذکور دوا کا حکم جاننے سے پہلے چند اصطلاحات کا سمجھنا ضروری:
1) کوشر: کوشر (Kosher) انگریزی زبان کا لفظ ہے، جو عبرانی زبان کے لفظ "کشروت" سے نکلا ہے۔ وہ کھانا جو ہلاخاہ (تحریری اور زبانی توریت پر مشتمل یہودی قوانین کا مجموعہ ہے) کے مطابق حلال ہیں، انہیں "کوشر" کہا جاتا ہے۔ (ویکیپیڈیا مع ترمیم)
اس تعریف کے مطابق کوشر گوشت (Kosher meat) اس یہودی ذبیحے کے گوشت کو کہا جاتا ہے جو یہودی مذہب کے مطابق جانور ذبح کرنے کے بعد حاصل ہوتا ہے۔
2) ویگن: ویگن (Vegan) سبزی خور لوگوں کی غذا کا نام ہے۔ ویگن فوڈ (Vagan Food) اس غذا کو کہتے ہیں جس میں جانوروں کا گوشت اور اس سے حاصل شدہ اجزا شامل نہیں ہوتے ہیں۔
3) حلال: حلال فوڈ (Halal Food) سے مراد کھانے پینے کی وہ چیزیں ہیں جن کا استعمال اسلامی تعلیمات کے مطابق جائز ہو۔
واضح رہے کہ کسی غذا یا دوا کا صرف "کوشر" یا "ویگن" ہونا اس کے حلال ہونے کی حتمی سند نہیں بن سکتی ہے، لہذا سوال میں پوچھی گئی صورت میں اگر اس دوا کے اجزاء میں کوئی حرام یا ناپاک شے یا انگور اور کھجور سے بنی شراب شامل نہ ہو تو اس دوا کا استعمال جائز ہوگا اور اگر اس کے اجزاء میں کوئی حرام، نجس یا مشتبہ چیز پائی جاتی ہو تو اس صورت میں اس سے بچنا ضروری ہوگا۔
(نوٹ: کوشر الکوحل کے بارے میں ہمارے پاس مستند معلومات دستیاب نہیں ہیں، اس لیے جب تک الکوحل کا ماخد معلوم نہ ہوجائے، اس کے حلال یا حرام ہونے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*بدائع الصنائع: (45/5، ط: دار الكتب العلمية)*
(ومنها) أن يكون مسلما أو كتابيا فلا تؤكل ذبيحة أهل الشرك والمجوسي والوثني وذبيحة المرتد ... وتؤكل ذبيحة أهل الكتاب لقوله تعالى ﴿وطعام الذين أوتوا الكتاب حل لكم﴾ [المائدة: ٥] والمراد منه ذبائحهم إذ لو لم يكن المراد ذلك لم يكن للتخصيص بأهل الكتاب معنى؛ لأن غير الذبائح من أطعمة الكفرة مأكول ولأن مطلق اسم الطعام يقع على الذبائح كما يقع على غيرها؛ لأنه اسم لما يتطعم والذبائح مما يتطعم فيدخل تحت إطلاق اسم الطعام فيحل لنا أكلها ويستوي فيه أهل الحرب منهم وغيرهم لعموم الآية الكريمة، وكذا يستوي فيه نصارى بني تغلب وغيرهم؛ لأنهم على دين النصارى إلا أنهم نصارى العرب فيتناولهم عموم الآية الشريفة.

*تکملۃ فتح الملھم: (806/3، ط: مکتبہ دار العلوم کراتشی)*
واما غیر الاشربۃ الاربع،فلیست نجسۃ عند امام ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی، وبھذا یتبین حکم الکحل المسکرۃ (ALCOHALS)التی عمت بھا البلوی الیوم، فانھا تستعمل فی کثیر من الادویۃ والعطور والمرکبات الاخری، فانھا ان اتخذت من العنب او التمر فلا سبیل الی حلتھا او طہارتہا، وان اتخذت من غیرھا فالامر فیھا سھل علی مذھب ابی حنیفۃ رحمہ اللہ، ولا یحرم استعمالھا للتداوی او لاغراض مباحۃ اخری ما لم تبلغ حد الاسکار، لانھا تستعمل مرکبۃ مع المواد الاخری، ولا یحکم بنجاستھا اخذا بقول ابی حنیفۃ رحمہ اللہ۔
وان معظم الکحل التی تستعمل الیوم فی الادویۃ والعطور وغیرھا لا تتخذ من العنب او التمر، انما تتخذ من الحبوب او القشور او البترول وغیرہ، کما ذکرنا فی باب بیع الخمر من کتاب البیوع، و حینئذ ھناک فسحۃ فی الاخذ بقول ابی حنیفۃ عند عموم البلوی۔

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Medical Treatment