resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: مسلسل ریح خارج ہونے والے شخص کے وضو اور نماز کا حکم

(66209-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی مریض وضو کرتا ہے، لیکن اکثر اس سے ہوا خارج ہوتی رہتی ہے یا اس کے قابو میں نہیں ہوتی، اور ایسا اکثر نماز کے دوران بھی ہوتا ہے، تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ دوبارہ وضو نہیں کر سکتا۔ اس صورتِ حال کی وجہ سے اسے اکثر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور وہ بڑی مشقت سے وضو کرتا ہے۔ براہِ کرم بتائیں کہ ایسے شخص کے لیے شریعت کا کیا حکم ہے؟ جزاکم اللہ خیراً

جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر ریح کا اخراج اس تسلسل سے ہوتا ہے کہ نماز کے پورے وقت میں مریض کو اتنا وقت بھی نہیں ملتا کہ وہ وضو کر کے فرض نماز اس طرح ادا کر سکے کہ ریح خارج نہ ہو تو وہ شرعی طور پر معذور شمار ہوگا۔
معذور کا حکم یہ ہے کہ وہ ہر نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد وضو کرے، اور اس وضو سے اس وقت کے اندر جتنی چاہے نمازیں (فرض و نفل) پڑھتا رہے۔ اس دوران ریح خارج ہونے سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا، البتہ نماز کا وقت ختم ہوتے ہی وضو ٹوٹ جائے گا اور اگلی نماز کے لیے نیا وضو کرنا لازم ہوگا۔
لیکن اگر ریح کا اخراج اس تسلسل سے نہیں ہوتا اور اس کو فرض نماز ادا کرنے کا موقع مل جاتا ہے تو وہ شرعاً معذور شمار نہیں ہوگا اور ہر نماز کے لیے الگ وضو کر کے نماز ادا کرنی ہوگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار مع رد المحتار: (305/1، ط: سعید)
(وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه ۔۔۔(إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة)
بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث (ولو حكما) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، وفي) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) ولو مرة (وفي) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لأنه الانقطاع الكامل.
(وحكمه الوضوء) لا غسل ثوبه ونحوه (لكل فرض) اللام للوقت كما في - {لدلوك الشمس} [الإسراء: 78]- (ثم يصلي) به (فيه فرضا ونفلا) فدخل الواجب بالأولى (فإذا خرج الوقت بطل) أي: ظهر حدثه السابق، حتى لو توضأ على الانقطاع ودام إلى خروجه لم يبطل بالخروج ما لم يطرأ حدث آخر أو يسيل كمسألة مسح خفه.
وأفاد أنه لو توضأ بعد الطلوع ولو لعيد أو ضحى لم يبطل إلا بخروج وقت الظهر.۔۔۔
(و) المعذور (إنما تبقى طهارته في الوقت) بشرطين (إذا) توضأ لعذره و (لم يطرأ عليه حدث آخر، أما إذا) توضأ لحدث آخر وعذره منقطع ثم سال أو توضأ لعذره ثم (طرأ) عليه حدث آخر، بأن سال أحد منخريه أو جرحيه أو قرحتيه ولو من جدري ثم سال الآخر (فلا) تبقى طهارته.

الفتاوی الھندية: (40/1، ط: دارالفکر)
ﺷﺮﻁ ﺛﺒﻮﺕ اﻟﻌﺬﺭ اﺑﺘﺪاء ﺃﻥ ﻳﺴﺘﻮﻋﺐ اﺳﺘﻤﺮاﺭﻩ ﻭﻗﺖ اﻟﺼﻼﺓ ﻛﺎﻣﻼ ﻭﻫﻮ اﻷﻇﻬﺮ ﻛﺎﻻﻧﻘﻄﺎﻉ ﻻ ﻳﺜﺒﺖ ﻣﺎ ﻟﻢ ﻳﺴﺘﻮﻋﺐ اﻟﻮﻗﺖ ﻛﻠﻪ ﺣﺘﻰ ﻟﻮ ﺳﺎﻝ ﺩﻣﻬﺎ ﻓﻲ ﺑﻌﺾ ﻭﻗﺖ ﺻﻼﺓ ﻓﺘﻮﺿﺄﺕﻭﺻﻠﺖ ﺛﻢ ﺧﺮﺝ اﻟﻮﻗﺖ ﻭﺩﺧﻞ ﻭﻗﺖ ﺻﻼﺓ ﺃﺧﺮﻯ ﻭاﻧﻘﻄﻊ ﺩﻣﻬﺎ ﻓﻴﻪ ﺃﻋﺎﺩﺕ ﺗﻠﻚ اﻟﺼﻼﺓ ﻟﻌﺪﻡ اﻻﺳﺘﻴﻌﺎﺏ.....اﻟﻤﺴﺘﺤﺎﺿﺔ ﻭﻣﻦ ﺑﻪ ﺳﻠﺲ اﻟﺒﻮﻝ ﺃﻭ اﺳﺘﻄﻼﻕ اﻟﺒﻄﻦ ﺃﻭ اﻧﻔﻼﺕ اﻟﺮﻳﺢ ﺃﻭ ﺭﻋﺎﻑ ﺩاﺋﻢ ﺃﻭ ﺟﺮﺡ ﻻ ﻳﺮﻗﺄ ﻳﺘﻮﺿﺌﻮﻥ ﻟﻮﻗﺖ ﻛﻞ ﺻﻼﺓ ﻭﻳﺼﻠﻮﻥ ﺑﺬﻟﻚ اﻟﻮﺿﻮء ﻓﻲ اﻟﻮﻗﺖ ﻣﺎ ﺷﺎءﻭا ﻣﻦ اﻟﻔﺮاﺋﺾ ﻭاﻟﻨﻮاﻓﻞ ﻫﻜﺬا ﻓﻲ اﻟﺒﺤﺮ اﻟﺮاﺋﻖ.

واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Purity & Impurity