سوال:
السلام علیکم! میرے گھر میں قبلہ بالکل سیدھا ہے، صرف 10 سے 20 ڈگری کا فرق ہے جو اتنا کم فرق ہے کہ جب ہم نے باتھ روم بنایا تو WC اور کموڈ کو اس طرح رکھا کہ ان کا منہ جنوب کی طرف ہو، لیکن باتھ ایریا کا نل قبلہ کی سمت آ رہا ہے، اب ایسی صورت میں ہم کیا کریں؟ واش روم چھوٹا ہونے کی وجہ سے ہم اسے دوسری سمت میں بھی نہیں بنا سکتے تھے، اس لیے مجبوری کی وجہ سے ہمیں ایک ہی طرف بنانا پڑا، اس بارے میں رہنمائی فرما دیں۔
جواب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے مطابق قضائے حاجت کے دوران چہرہ یا پشت قبلہ کی جانب کرنا منع ہے، مسلم شریف کی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "قضائے حاجت کے دوران اپنا چہرہ یا پشت قبلہ کی جانب مت کیا کرو" (صحيح مسلم: حدیث نمبر: 264)
چونکہ عین سمتِ کعبہ سے دائیں بائیں پینتالیس (45) ڈگری میں پڑھی گئی نماز درست ہوتی ہے، اس لئے قضائے حاجت کے وقت چہرہ اور پشت کا عین قبلہ اور اس سے دائیں بائیں پینتالیس (45) ڈگری کی سمت سے ہٹا ہوا ہونا ضروری ہے۔
پوچھی گئی صورت میں اگر آپ کے واش روم کی ڈبلیو سی (WC) اور کموڈ (Commode) کے دونوں رخ عین قبلہ کی سمت سے پینتالیس (45) ڈگری سے زیادہ ہٹے ہوئے ہیں تو قضائے حاجت کے لیے اس ڈبلیو سی یا کموڈ کو استعمال کرنا درست ہے، لیکن اگر ان کا رخ سمت قبلہ سے اس قدر مڑا ہوا نہیں ہے، اور جگہ کی تنگی کی وجہ سے ان کو درست کرنے کی کوئی صورت بھی نہیں ہے تو اس صورت میں بیت الخلاء استعمال کرنے والوں پر لازم ہے کہ قضائے حاجت کے وقت مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق سمتِ قبلہ سے انحراف کرکے بیٹھیں (یعنی جتنا ہوسکے، رُخ موڑ کر بیٹھیں، تاکہ چہرہ یا پشت قبلہ کی طرف نہ ہو) اور بیت الخلاء سے نکل کر استغفار بھی کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
صحيح مسلم: ( رقم الحدیث: 264، 224/1، ط: دار إحياء التراث العربي)
عن أبي أيوب، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "إذا أتيتم الغائط فلا تستقبلوا القبلة، ولا تستدبروها ببول ولا غائط، ولكن شرقوا أو غربوا" قال أبو أيوب: "فقدمنا الشام فوجدنا مراحيض قد بنيت قبل القبلة، فننحرف عنها ونستغفر الله؟ قال: نعم۔
اللباب في شرح الكتاب: (64/1، ط: المكتبة العلمية)
اعلم أنه لا يجوز لأحد أداء فريضة ولا نافلة ولا سجدة تلاوة ولا صلاة جنازة إلا متوجها إلى القبلة، فإن صلى إلى غير جهة القبلة متعمداً من غير عذر كفر، ثم من كان بمكة ففرضه إصابة عينها، ومن كان غائباً عنها ففرضه إصابة جهتها، هو الصحيح. جوهرة.
الدر المختار مع رد المحتار: (427/1، ط: سعید)
(و) السادس (استقبال القبلة) حقيقة أو حكما۔۔۔ (فللمكي)۔۔۔ (إصابة عينها)۔۔۔ (ولغيره) أي غير معاينها (إصابة جهتها) بأن يبقى شيء من سطح الوجه مسامتا للكعبة أو لهوائها، بأن يفرض من تلقاء وجه مستقبلها حقيقة في بعض البلاد خط على زوايا قائمة إلى الأفق مارا على الكعبة، وخط آخر يقطعه على زاويتين قائمتين يمنة ويسرة منح. قلت: فهذا معنى التيامن والتياسر۔۔۔الخ
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی