سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، حضرت!امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ مجھے ایک مسئلے کے بارے میں رہنمائی درکار ہے، براہِ کرم میرے سوال کا جواب قرآن و سنت اور فقہی اصولوں کی روشنی میں عطا فرما دیں۔
کیا واش روم ہے جس میں عام سادہ ٹائلز لگی ہوئی ہیں۔ اس میں پرانے طرز کی ٹوائلٹ سیٹ ہے جو واش روم کے فرش سے تقریباً ایک سیڑھی جتنی اونچائی پر بنی ہوئی ہے، جبکہ نیچے پورے واش روم میں ٹائلز والا فرش ہے۔
نہانے کے لیے ہم اسی نچلے فرش پر شاور لیتے ہیں اور پانی مسلسل فرش پر بہتا رہتا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ نہانے کے دوران جب پانی جسم سے لگ کر نیچے فرش پر گرتا ہے تو اس کے چھینٹے بعض اوقات پاؤں یا جسم پر آ جاتے ہیں۔ اسی طرح شاور بند کرنے کے بعد بھی اوپر سے پانی کے چند قطرے نیچے فرش پر گرتے ہیں اور ان کے چھینٹے پاؤں پر پڑ سکتے ہیں۔
براہِ کرم ان دونوں صورتوں کے بارے میں رہنمائی فرما دیں:
1) نہاتے وقت جسم سے لگ کر فرش پر گرنے والے پانی کے چھینٹے اگر پاؤں یا جسم پر پڑیں تو کیا وہ پانی پاک شمار ہوگا؟ کیا اس سے بدن ناپاک ہوگا؟
2) شاور بند کرنے کے بعد اوپر سے گرنے والے صاف پانی کے قطروں کے فرش سے اچھل کر پاؤں پر پڑنے کی صورت میں کیا وہ پانی پاک ہوگا؟ کیا اس سے پاؤں یا بدن ناپاک ہوگا؟ اور اگر فرش پر بظاہر کوئی نجاست (پیشاب یا پاخانہ وغیرہ) موجود نہ ہو، صرف نہانے کی وجہ سے فرش گیلا ہو، تو کیا ایسی صورت میں نہانے کے بعد اسی جگہ کھڑے ہو کر کپڑے پہن سکتے ہیں؟ مجھے اس معاملے میں بار بار شک اور وسوسہ ہو جاتا ہے، اس لیے براہِ کرم واضح اور اطمینان بخش جواب عطا فرما دیں کہ کن صورتوں میں پانی یا بدن ناپاک شمار ہوگا اور کن صورتوں میں صرف شک کی وجہ سے ناپاکی کا حکم نہیں لگے گا۔ جزاکم اللہ خیراً کثیراً اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین جزائے خیر عطا فرمائے۔
جواب: واضح رہے کہ غسل کے دوران جو پانی جسم سے لگ کر فرش پر گرتا ہے، پھر اس کے چھینٹے پاؤں یا بدن پر پڑتے ہیں، وہ پاک ہیں اور ان سے بدن ناپاک نہیں ہوگا۔ اسی طرح شاور بند کرنے کے بعد اوپر سے گرنے والے صاف پانی کے قطرے فرش پر پڑ کر اچھلیں اور پاؤں یا بدن پر آئیں تو وہ چھینٹے بھی پاک ہی شمار ہوں گے، بشرطیکہ فرش پر کوئی ظاہری نجاست مثلاً : پیشاب پاخانہ وغیرہ موجود نہ ہو۔
اسی طرح اگر فرش پر صرف نہانے کی وجہ سے پانی پھیلا ہوا ہو اور اس میں کوئی ظاہری نجاست موجود نہ ہو تو غسل کے بعد اسی جگہ کھڑے ہوکر کپڑے پہننا بھی جائز ہے، پس جب تک نجاست کا یقینی علم نہ ہو، فرش اور اس پر موجود پانی اور بدن کو پاک ہی سمجھا جائے گا، محض شک یا وہم کی وجہ سے انہیں ناپاک قرار نہیں دیا جائے گا۔
نیز غسل سے پہلے فرش کو صاف پانی سے دھولینا بہتر ہے، تاکہ نجاست کے شبہ اور وسوسوں سے انسان محفوظ رہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الفتاویٰ الھندیة: (22/1، ط: دار الفکر)
اتفق أصحابنا - رحمهم الله - أن الماء المستعمل ليس بطهور حتى لا يجوز التوضؤ به واختلفوا في طهارته قال محمد - رحمه الله -: هو طاهر وهو رواية عن أبي حنيفة - رحمه الله - وعليه الفتوى. كذا في المحيط.
اعلاء السنن: (252/1)
ان ابن عمرؓ والبراء بن عازبؓ ادخل یدہ في الطھور ولم يغسلها ثم توضأ ولم یر ابن عباس بأسا بما ینتضح من غسل الجنابة۔
الأشباہ والنظائر: (ص: 62، ط: رشيدية)
الیقین لا یزول بالشّك
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی