سوال:
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! محترم مفتى صاحب! ایک مسئلہ کے بارے میں مؤدبانہ رہنمائی مطلوب ہے، براہِ کرم حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں۔
نواقضِ وضو کے ضمن میں یہ مسئلہ ہم نے سیکھا کہ اگر کوئی شخص نماز کے دوران اتنی زور سے قہقہہ لگا کر ہنسے کہ پاس کھڑے لوگ سن سکیں تو اس سے نماز اور وضو دونوں فاسد ہو جاتے ہیں۔
میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نماز سے باہر اسی طرح قہقہہ لگا کر ہنسے تو کیا محض قہقہہ لگانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے یا وضو کے ٹوٹنے کا یہ حکم صرف نماز کی حالت کے ساتھ خاص ہے؟ قہقہہ لگانے کی صورت میں وضو بلا عذر کے باقی رہتا ہے یا وضو کر لینا واجب، سنت یا مستحب ہو گا؟ جزاکم اللہ خیراً کثیراً
جواب: واضح رہے کہ قہقہہ لگانے سے وضو صرف اُس وقت ٹوٹتا ہے جب قہقہہ ایسی نماز میں لگایا جائے جس میں رکوع اور سجدہ ہو، اس لیے اگر کوئی شخص نمازِ جنازہ میں (کیونکہ اس میں رکوع اور سجدہ نہیں ہوتا) یا نماز سے باہر قہقہہ لگائے تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا، البتہ بعض فقہاء کے نزدیک نماز سے باہر اگر کوئی قہقہہ لگائے تو اس کے لیے وضو کرلینا مستحب عمل ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*الفتاوى الهندية: (كتاب الطهارة، 1/ 9،ط: دار الفكر)*
ومندوب ... ومنها الوضوء إذا ضحك قهقهة ومنها الوضوء لغسل الميت كذا في فتاوى قاضي خان.
*وفيه أيضاً: (كتاب الطهارة، 1/ 12،ط:دار الفكر)*
القهقهة في كل صلاة فيها ركوع وسجود تنقض الصلاة والوضوء عندنا. كذا في المحيط سواء كانت عمدا أو نسيانا كذا في الخلاصة.
ولا تنقض الطهارة خارج الصلاة والضحك يبطل الصلاة ولا يبطل الطهارة والتبسم لا يبطل الصلاة ولا الطهارة، ولو قهقه في سجدة التلاوة أو في صلاة الجنازة تبطل ما كان فيها ولا تنقض الطهارة. كذا في فتاوى قاضي خان.
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی