resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: میاں بیوی کا ایک دوسرے کو چھونے یا بوس و کنار کرنے سے وضو ٹوٹنے کا حکم

(52337-No)

سوال: میری ابھی نئی شادی ہوئی ہے، میں کچھ مسائل جاننا چاہتا ہوں۔ جیسے مجھے معلوم ہے کہ ہم بستری کے بعد غسل واجب ہو جاتا ہے، لیکن کیا بیوی کو بوسہ دینے یا شہوت کے ساتھ چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے یا بیوی کو بغیر لباس کے دیکھنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
اسی طرح بیوی کا وضو کن کن باتوں سے ٹوٹتا ہے؟ کیا شوہر کے شہوت کے ساتھ ہاتھ لگانے، اسے چھونے یا بوسہ دینے سے بیوی کا وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
میرا یہ سوال رات کے ہم بستری سے متعلق نہیں ہے، بلکہ دن کے وقت کیے جانے والے معمولی محبت بھرے معاملات، جیسے ہاتھ پکڑنے، گلے لگانے یا بوسہ دینے کے حوالے سے ہے۔ براہِ کرم اس بارے میں رہنمائی فرما دیں۔

جواب: واضح رہے کہ میاں بیوی کا ایک دوسرے کو بوسہ دینا، شہوت کے ساتھ چھونا، گلے لگانا، ہاتھ پکڑنا یا بغیر لباس کے ایک دوسرے کو دیکھنا، ان میں سے کسی بھی عمل سے وضو نہیں ٹوٹتا، البتہ اگر بوس و کنار یا جسمانی قربت کے دوران مرد یا عورت کی شرمگاہ سے رطوبت ( یعنی مذی) خارج ہو جائے تو اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، لیکن غسل واجب نہیں ہوتا۔
اسی طرح اگر ملاعبت (Foreplay) کے دوران (جبکہ ہم بستری یعنی دخول نہ کیا ہو) مرد یا عورت میں سے جس کی منی خارج ہو جائے تو اس پر غسل کرنا فرض ہو جائے گا۔ نیز مذی یا منی جس جگہ کپڑے پر لگ جائے، صرف اسی حصے کو دھو لینا کافی ہے، پورا کپڑا دھونے کی ضرورت نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*الدر المختار:(1/ 134،ط: سعید)*
(وينقضه) خروج منه كل خارج (نجس) بالفتح ويكسر (منه) أي من المتوضئ الحي معتاداً أو لا، من السبيلين أو لا.

*الدر المختارمع رد المحتار: (1/ 165،ط: سعید)*
(لا) عند (مذي أو ودي) بل الوضوء منه ومن البول جميعا على الظاهر.
(قوله: لا عند مذي) أي لايفرض الغسل عند خروج مذي كظبي بمعجمة ساكنة وياء مخففة على الأفصح، وفيه الكسر مع التخفيف والتشديد، وقيل: هما لحن ماء رقيق أبيض يخرج عند الشهوة لا بها، وهو في النساء أغلب، قيل هو منهن يسمى القذى بمفتوحتين نهر۔

والله تعالی أعلم بالصواب
دار الإفتاء الإخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Purity & Impurity