resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: نجس اون کو الگ کرنے کے بعد باقی اون کی پاکی اور اس کی خرید و فروخت کا حکم

(52325-No)

سوال: میرے پاس کروشیا کرنے والے اون کا ایک کپڑے کا بیگ تھا جس میں چوہا گھس گیا تھا اور بیگ کے اندر چوہے کی خشک مینگنیاں موجود تھیں، تاہم اون کا گولا خود بالکل خشک تھا، میں نے احتیاط کے طور پر جس اون پر زرد مائل نشان دیکھا (جہاں پیشاب کا شبہ تھا) وہ حصہ کاٹ کر پھینک دیا ہے اور باقی جو اون بالکل خشک، صاف اور بے داغ تھا، اسے اچھی طرح جھاڑ لیا ہے۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا چوہے کی خشک مینگنیوں کے چھو جانے سے باقی بچا ہوا خشک اون بھی ناپاک ہو گیا ہے، کیا اسے پاک کرنے کے لیے دھونا ضروری ہے یا صرف جھاڑ لینا ہی کافی ہے اور کیا اس بچے ہوئے اون سے گاہک کے لیے کوئی چیز بنا کر فروخت کرنا اور اس کی اجرت وصول کرنا شرعاً حلال ہے؟ نیز کیا اس اون سے بنی ہوئی چیز کو استعمال کرنے سے گاہک کی اپنی نمازوں پر تو کوئی اثر نہیں پڑے گا؟ برائے مہربانی شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں رہنمائی فرما کر مشکور فرمائیں۔ جزاک اللہ خیراً

جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر بچا ہوا اون بالکل صاف ہے اور اس پر نجاست (مینگنی وغیرہ) کے اثرات نہیں پہنچے ہیں تو اسے دھونا ضروری نہیں ہے، اور نہ ہی اس کے استعمال سے نماز پر کوئی اثر پڑے گا۔ نیز اس کی خرید و فروخت اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حلال ہوگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*

رد المحتار: (319/1، ط: دار الفكر)
وكذا بول الفأرة اعلم أنه ذكر في الخانية أن بول الهرة والفأرة وخرأها نجس في أظهر الروايات يفسد الماء والثوب
ولو طحن بعر الفأرة مع الحنطة ولم يظهر أثره يعفى عنه للضرورة
وفي الخلاصة إذا بالت الهرة في الإناء أو على الثوب تنجس وكذا بول الفأرة وقال الفقيه أبو جعفر ينجس الإناء دون الثوب ا ه
قال في الفتح وهو حسن لعادة تخمير الأواني وبول الفأرة في رواية لا بأس به والمشايخ على أنه نجس لخفة الضرورة بخلاف خرئها فإن فيه ضرورة في الحنطة ا ه
والحاصل أن ظاهر الرواية نجاسة الكل لكن الضرورة متحققة في بول الهرة في غير المائعات كالثياب وكذا في خرء الفأرة في نحو الحنطة دون الثياب والمائعات وأما بول الفأرة فالضرورة في غير متحققة إلا على تلك الرواية المارة التي ذكر الشارح أن عليها الفتوى لكن عبارة التاترخانية بول الفأرة وخرؤها نجس وقيل بولها معفو عنه وعليه الفتوى
وفي الحجة الصحيح أنه نجس ا ه ولفظ الفتوى وإن كان آكد من لفظ الصحيح إلا أن القول الثاني هنا تأيد بكون ظاهر الرواية فافهم لكن تقدم في فصل البئر أن الأصح أنه لا ينجسه وقد يقال إن الضرورة في البئر متحققة بخلاف الأواني لأنها تخمر كما مر فتدبر.

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Purity & Impurity