resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: نماز میں مذی کے شک اور وسوسے کا شرعی حکم

(54361-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میرا ایک مسئلہ ہے جس کی وجہ سے میں بہت پریشان ہوں، مجھے نماز کے دوران کبھی کبھی جنسی وسوسے آتے ہیں، لیکن میں جان بوجھ کر ایسے خیالات نہیں لاتا بلکہ پوری کوشش کرتا ہوں کہ انہیں روکوں اور اللہ کی طرف توجہ رکھوں، ان خیالات کو روکنے کی کوشش کے دوران کبھی جسم میں ہلکی سی کیفیت محسوس ہوتی ہے، لیکن مجھے کسی چیز کے خارج ہونے کا احساس نہیں ہوتا۔
نماز ختم ہونے کے فوراً بعد جب میں انڈروئیر چیک کرتا ہوں تو کبھی کبھی قلم کی نوک جتنے سائز کا ایک چھوٹا سا گیلا نشان نظر آتا ہے، کبھی وہ صرف پانی جیسا ہوتا ہے اور کبھی کچھ چکنا محسوس ہوتا ہے، پھر میں دوبارہ وضو کرتا ہوں اور نماز پڑھتا ہوں، لیکن کبھی دوبارہ بھی ایسا ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات انتظار کر کے ذہن کو پرسکون کرنے کے بعد وضو کر کے نماز پڑھوں تو کوئی نشان نہیں ملتا۔
اس بار بار چیک کرنے اور دوبارہ وضو کرنے کی وجہ سے میری نمازوں کے اوقات بھی نکل جاتے ہیں، جس کی وجہ سے میں بہت پریشان ہوں۔
براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں:
کیا ایسی صورت میں ہر مرتبہ وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
کیا ہر نماز کے بعد انڈروئیر چیک کرنا ضروری ہے؟
اگر خارج ہونے کا احساس نہ ہو اور صرف بعد میں چیک کرنے پر معمولی نمی نظر آئے تو مجھے کیا کرنا چاہیے؟
کیا یہ وسوسے کا مسئلہ ہے اور اس صورت میں میری عملی رہنمائی کیا ہوگی؟
جزاک اللہ خیراً

جواب: واضح رہے کہ دورانِ نماز مذی کے نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، بشرطیکہ مذی کے نکلنے کا یقین یا غالب گمان ہو، اس صورت میں نیا وضو کرکے دوبارہ نماز پڑھنا ضروری ہے، لیکن اگر دوران نماز مذی کے نکلنے کا صرف شک ہو تو شک کی بنیاد پر وضو نہیں ٹوٹے گا اس لیے آپ کو چاہیے کہ اپنی نماز کو جاری رکھیں، کیونکہ یقین کے مقابلہ میں شک کا کوئی اعتبار نہیں۔ چنانچہ حدیث مبارک میں ہے : "حضرت عباد بن تمیم اپنے چچا حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جسے نماز کے دوران یہ خیال آتا ہے کہ شاید اس سے کوئی چیز خارج ہوئی ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: وہ نماز نہ توڑے ( یا کہا ) نماز سے نہ پھرے جب تک آواز نہ سن لے یا بو محسوس نہ کر لے"۔ (بخاری، حدیث نمبر: 137)
لہٰذا آپ کے سوال میں بیان کردہ صورت میں جب محض وسوسے، خیالات یا جسم میں ہلکی سی کیفیت محسوس ہو، لیکن مذی یا کسی اور ناقضِ وضو چیز کے خارج ہونے کا یقین یا غالب گمان نہ ہو تو وضو ٹوٹنے کا حکم نہیں لگایا جائے گا، نہ نماز توڑنا درست ہوگا اور نہ ہی ہر نماز کے بعد انڈروئیر چیک کرنا ضروری ہوگا، اسی طرح اگر بعد میں محض معمولی نمی نظر آئے، لیکن اس کے متعلق یہ یقین نہ ہو کہ وہ نماز کے دوران خارج ہونے والی مذی ہے یا نماز کے بعد ہوئی ہے تو اس کی وجہ سے بھی نماز کا اعادہ لازم نہیں ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*صحيح البخاري: (باب لا يتوضأ من الشك حتى يستيقن، رقم الحدیث: 137، ط: دار طوق النجاة)*
عن عباد بن تميم، عن عمه : «أنه شكا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم: الرجل الذي يخيل إليه أنه يجد الشيء في الصلاة. فقال: لا ينفتل أو: لا ينصرف حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا.»

*مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: (1/ 361، ط: دار الفکر)*
وفيه دليل على أن اليقين لا يزول بالشك في شيء من أمر الشرع وهو قول عامة أهل العلم اه

*الأشباه و النظائر: (ص: 48، 49، 51، ط: دار الکتب العلمية)*
القاعدة الثالثة: اليقين لا يزول بالشك ودليلها ما رواه مسلم عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعا {إذا وجد أحدكم في بطنه شيئا فأشكل عليه أخرج منه شيء أم لا فلا يخرجن من المسجد حتى يسمع صوتا، أو يجد ريحا} ... الأصل بقاء ما كان على ما كان وتتفرع عليها مسائل منها: من تيقن الطهارة وشك في الحدث فهو متطهر ... رأى البلة بعد الوضوء سائلا من ذكره يعيد، وإن كان يعرضه كثيرا ولا يعلم أنه بول، أو ماء لا يلتفت إليه وينضح فرجه وإزاره بالماء قطعا للوسوسة، وإذا بعد عهده عن الوضوء، أو علم أنه بول لا تنفعه الحيلة... ما ثبت بيقين لا يرتفع إلا بيقين والمراد به غالب الظن.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Purity & Impurity