resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: واشنگ مشين ميں كپڑے دھوتے وقت پاک كپڑوں كے ساتھ ناپاک كپڑے دھونے كا حكم

(66241-No)

سوال: واشنگ مشین میں کپڑے دھونے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلی مرتبہ واشنگ مشین میں پانی ڈال کر کپڑے بھگوئے جاتے ہیں اور اس کو ایک مرتبہ اچھی طرح گھمایا جاتا ہے، پھر وہ پانی نیچے سے پائپ کے ذریعے نکال دیا جاتا ہے، پھر دوبارہ اوپر سے پائپ کے ذریعے واشنگ مشین میں دوبارہ پانی ڈالا جاتا ہے، اور اس میں صابن اور بلیچ بھی ڈالا جاتا ہے پھر کپڑوں کو دوبارہ گھمایا جاتا ہے، پھر اس کے بعد نیچے سے پائپ کے ذریعے پورا پانی نکال دیا جاتا ہے، پھر تیسری مرتبہ دوبارہ ایسا کیا جاتا ہے اور آخر میں ان تمام کپڑوں کو واشنگ مشین کے دوسرے حصے میں ڈرائر کیا جاتا ہے، جس سے تمام کپڑے اس قدر نچوڑ جاتے ہیں کہ سوکھنے کے قریب ہو جاتے ہیں اور اس پر نجاست کا کوئی اثر بھی باقی نہیں رہتا، نہ بدبو نہ رنگ۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ یا اس طریقے سے کپڑے پاک ہو جاتے ہیں؟
نیز یہ بھی بتا دیں کہ اگر کپڑوں میں نجاست لگنے کی جگہ معلوم نہ ہو اور مذکورہ طریقے سے کپڑے دھو لیے جائیں تو کیا اس سے کپڑے پاک ہو جائیں گے؟

جواب: پوچھی گئی صورت میں مذکورہ طریقے کے مطابق واشنگ مشین میں کپڑوں کو تین مرتبہ الگ الگ صاف پانی سے دھونے، ہر بار ناپاک پانی مکمل نکالنے اور صابن یا بلیچ کے استعمال سے نجاست کا مادہ و اثر (رنگ و بو) زائل ہونے کے بعد ڈرائر (اسپنر) میں اچھی طرح نچوڑ لینے سے تمام کپڑے شرعاً بالکل پاک ہو جاتے ہیں، نیز اگر نجاست کی متعین جگہ معلوم نہ ہو تب بھی چونکہ پورا کپڑا ان تینوں مراحل سے گزر چکا ہوتا ہے، اس لیے وہ بھی قطعی طور پر پاک ہو جائے گا، البتہ بہتر اور بے غبار طریقہ یہ ہے کہ جس کپڑے پر واضح نجاست لگی ہو، اسے مشین میں ڈالنے سے پہلے نلکے کے نیچے بہتے پانی سے دھو لیا جائے، تاہم ایسا نہ کرنے کی صورت میں بھی مذکورہ ترتیب سے دھوئے گئے کپڑوں کی طہارت میں کوئی شبہ نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار مع رد المحتار: (332/1، ط: دار الفكر)
(و) يطهر محل (غيرها) أي: غير مرئية (بغلبة ظن غاسل) لو مكلفا وإلا فمستعمل (طهارة محلها) بلا عدد به يفتى. (وقدر) ذلك لموسوس (بغسل وعصر ثلاثا) أو سبعا (فيما ينعصر) مبالغا بحيث لا يقطر ..... (و) قدر (بتثليث جفاف) أي: انقطاع تقاطر (في غيره) أي: غير منعصر مما يتشرب النجاسة وإلا فبقلعها كما مر، وهذا كله إذا غسل في إجانة، أما لو غسل في غدير أو صب عليه ماء كثير، أو جرى عليه الماء طهر مطلقا بلا شرط عصر وتجفيف وتكرار غمس هو المختار.(قوله: أو صب عليه ماء كثير) أي: بحيث يخرج الماء ويخلفه غيره ثلاثا؛ لأن الجريان بمنزلة التكرار والعصر هو الصحيح سراج.

البحر الرائق: (250/1، ط: دار الكتاب الإسلامي)
وأما حكم الصب فإنه إذا صب الماء على الثوب النجس إن أكثر الصب بحيث يخرج ما أصاب الثوب من الماء وخلفه غيره ثلاثا فقد طهر؛ لأن الجريان بمنزلة التكرار والعصر والمعتبر غلبة الظن هو الصحيح.

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Purity & Impurity