عنوان: کیا زانی کا مزنیہ کا دودھ پینے سے حرمت رضاعت ہوگی؟ (106390-No)

سوال: مفتی صاحب ! میں نے دو مردوں A اور B کے ساتھ کئی مرتبہ زنا کیا ہے، مرد A نے اس دوران ایک مرتبہ، جبکہ مرد B نے (منع کرنے کے باوجود) کم از کم چار مرتبہ، میرا دودھ پیا ہے، انٹرنیٹ پر مجھے اس بارے میں فتویٰ ملا کہ " بالغ کے پانچ مرتبہ دودھ پینے سے حرمت ہوجاتی ہے"، لیکن جب میں نے اپنے ملک کے علماء سے راہنمائی لی، تو انہوں نے کہا کہ "بالغ افراد کے دودھ پینے سے حرمت نہیں ہوتی"، میں نے توبہ کرلی ہے، اور مرد B سے تعلق ختم کردیا ہے، جبکہ مرد A سے نکاح کرنا چاہتی ہوں، اس سلسلے میں میرے تین سوالات ہیں: 1۔ میرا مرد A اور B سے تعلق کس نوعیت کا ہے؟ اور کیا ہم آپس میں نکاح کرسکتے ہیں؟ 2۔ مرد A اپنی بیوی کو طلاق دے رہا ہے، اس عمل میں چھ ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے، جس کے بعد ہم آپس میں نکاح کرلیں گے، انتظار کی اس مدت کے دوران ہمارے لئے ملنا ، کال اور میسج پر بات کرنا جائز ہے، یا نہیں؟ 3_مذکورہ مسئلہ میں مجھے "تلفیق" کا شبہ ہورہا ہے، کیا میں "تلفیق" کی مرتکب ہوئی ہوں؟

جواب: زنا ایک شنیع اور قبیح فعل ہے، نہ صرف اسلام بلکہ تمام آسمانی مذاہب میں اسکی شناعت وارد ہوئی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اسلامی معاشرہ میں زنا کو انتہائی گھناؤنا اور بدترین جرم قرار دیا گیا ہے، اور اسلامی تعزیرات میں اس جرم کی سخت ترین سزا مقرر کی گئی ہے۔
اسلامی نظام حیات میں نہ صرف زنا واجب التعزیر ہے، بلکہ اس کے اسباب اور محرکات بھی ممنوع ہیں، اسلام ہر اس فعل پر پابندی لگاتا ہے، جو انسان کو اس گناہ کی طرف لے جاتا ہو، مثلاً بے پردگی و بےحیائی، نامحرموں سے میل جول، اور ان سے باتیں کرنا، زیب وزینت کی نمائش، زیورات کی جھنکار وغیرہ۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا ۖ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا۔
ترجمہ:
"اور زنا کے پاس بھی نہ جانا کہ وہ بے حیائی اور بری راہ ہے"۔
(سورۃ بنی اسرائیل، آیۃ:32)

آپ نے جو تین سوالات پوچھے ہیں، ان کے جوابات درج ذیل ہیں:

1_ دودھ عورت کے بدن کا جز ہے، اور اجزائے انسانی کا استعمال جائز نہیں ہے، لہذا ان دو مردوں نے دودھ پی کر ایک حرام فعل کا ارتکاب کیا ہے، البتہ فقہ حنفی میں مدت رضاعت زیادہ سے زیادہ ڈھائی سال ہے، اگر اس مدت کے بعد دودھ پلایا جائے، تو وہ حرمت رضاعت کا سبب نہیں ہوتا، اس لئے صورت مسئولہ میں آپ کا مرد A، اور مرد B کے ساتھ رضاعت کا کوئی رشتہ نہیں ہے اور آپ کا آپس میں نکاح کرنا جائز ہے۔

2_مرد A کے ساتھ آپ شادی کرسکتی ہیں، لیکن نکاح سے پہلے تک، (اگر چہ اس نے آپ سے نکاح کا وعدہ کیا ہے) وہ آپ کے لئے دیگر اجنبیوں کی طرح ہے، اور نامحرم اجنبیوں سے تعلقات رکھنا، ملنا جلنا، اور ہنسی مذاق یا بلا ضرورت بات چیت کرنا جائز نہیں ہے، اور میسج پر تعلقات رکھنے کا بھی یہی حکم ہے۔

3_یہ ضروری ہے کہ انسان جس امام کی اقتدا کرے، تمام مسائل میں اسی امام کے اجتہادات اور تخریجات کے مطابق عمل کرے، ایک مسئلے میں کسی امام کا قول لینا، دوسرے میں کسی اور امام کا، شرعاً جائز نہیں ہے، اس سے خواہش پرستی کا دروازہ کھلے گا، نیز ”تلفیق بین المسالک“ کی نوبت آئے گی، جو قطعا جائز نہیں ہے، آپ نے جو مسئلہ پوچھا ہے، اس میں بظاہر "تلفیق" کی صورت نہیں بنتی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

قال صاحب الھدایۃ:

قلیل الرضاع و کثیرہ سواء، اذا حصل فی مادۃ الرضاع یتعلق بہ التحریم، ثم مدۃ الرضاع ثلٰثون شھرا عند ابی حنیفۃ، و اذا مضت مدۃ الرضاع، لم یتعلق بالرضاع تحریم۔

(ص:369، ج:2، ط: مکتبہ رحمانیہ)

قال اللہ تبارک و تعالیٰ:

وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا ۖ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا۔

(سورۃ بنی اسرائیل، آیۃ:32)

قال في الدر المختار :

"وشرعًا (مصّ من ثدي آدمية) ولو بكرًا أو ميتةً أو آيسةً، وألحق بالمصّ الوجور والسعوط (في وقت مخصوص) هو (حولان ونصف عنده، وحولان) فقط (عندهما، وهو الأصح)

(ص:209، ج:3)

قال اللہ تبارک و تعالیٰ:

وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ۖ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ ۖ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَىٰ عَوْرَاتِ النِّسَاءِ ۖ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ ۚ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔

(سورۃ النور، رقم الآیۃ:31)

قال فی شرح المہذب:

ووجھہ أنہ لو جاز اتباع أي مذھب شاء لا فضی إلی أن یلتقط رُخَص المذاھب متبعا ھواہ ویتخیر بین التحلیل والتحریم والوجوب والجواز وذلک یؤدي إلی انحلال ربقة التکلیف بخلاف العصر الأول فإنہ لم تکن المذاھب الوافیة بأحکام الحوادث مھذبة : فعلی ھذا یلزمہ أن یجتھد في اختیار مذھب یقلدہ علی التعیین۔

(ص:55، ج:1، ط: بیروت)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 350
Kiya zaani ka muzaniya ka dhood peenay sae hurmat razahat ho gi?, Does Hurmat Razahat occurs by drinking the milk of adulteress by adulterer?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Fosterage

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com