سوال:
مفتی صاحب ! جب رات کو نیند سے بیدار ہوں، تو کون سی دعا پڑھنا چاہیے؟
جواب: (1) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ جب رات میں بیدار ہوتے، تو یہ دعا پڑھتے:
لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبحَانَکَ، اَللّٰھُمَّ اَسْتَغْفِرُکَ لِذَنبِیْ، وَاَسْئَلُکَ رَحْمَتَکَ. اَللّٰھُمَّ زِدْنِیْ عِلْمًا، وَلَا تُزِغْ قَلْبِیْ بَعْدَ اِذْ ہَدَیْتَنِیْ وَھَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّابُ.
ترجمہ: تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، اے اللہ ! میں تجھ سے اپنے گناہوں کی معافی چاہتا ہوں، اور تجھ سے تیری رحمت مانگتا ہوں۔
اے اللہ ! میرے علم میں اضافہ فرما، مجھے ہدایت دینے کے بعد میرے دل میں کجی پیدا نہ کر اور خاص اپنی طرف سے مجھ پر رحمت فرما، بے شک تو بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے۔
(سنن لابی داؤد، باب ما یقول الرجل اذا تعار من اللیل، رقم الحدیث: 5061)
نیز رات کو اٹھ کر یہ دعا پڑھنا بھی ثابت ہے:
(2) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ جب رات میں نیند سے جاگتے تو دس بار اَللهُ اَكبَر (اللہ سب سے بڑا ہے) کہتے، دس بار اَلحَمدُ لِلّٰهِ ( تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں) کہتے، دس بار سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ( میں اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں، اس کی تعریف کے ساتھ) کہتے، دس بار سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ (پاک ہے وہ ذات جو بادشاہ ہے، تقدس کا مالک ہے۔) کہتے، اور دس بار اَستَغفِرُ اللهَ (میں اللہ سے مغفرت مانگتا ہوں) کہتے، اور دس بار لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ (اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں) کہتے، پھر دس بار اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ ضِيقِ الدُّنْيَا، وَضِيقِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ (اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں، دنیا کی تنگی سے اور قیامت کے دن کی تنگی سے) کہتے، پھر نماز شروع کرتے۔
(السنن لابي داؤد، باب ما يقول إذا أصبح، رقم الحديث: 5085)
رات کو بیدار ہونے کے بعد یہ دعا پڑھنا بھی منقول ہے:
(3)( لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، وَھُوَ عَلیٰ کُلِّ شَيْ ءٍ قَدِیْرٌ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ سُبْحَانَ اللہِ وَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اَلَّا بِاللہِ .
ترجمہ: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے، اور اسی کی تمام حمد و ثنا ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور تمام حمد و ثنا اللہ ہی کے لئے ہے، اور اللہ تعالی پاک ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے ۔ گناہوں سے بچانے اور نیکی کرنے کی طاقت اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ (صحیح بخاری، باب فضل من تعار من اللیل فصلی، رقم الحدیث: 1154 )
فضیلت: حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو شخص رات کو بیدار ہو کر مذکورہ دعا پڑھے، اس کے بعد اَلَلّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ پڑھے یا کوئی بھی دعا کرے تو اس کی دعا قبول کی جاتی ہے، پھر اگر وہ وضو کر کے (نماز پڑھے) تو نماز بھی قبول کی جاتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
سنن ابی داؤد: (باب ما یقول الرجل اذا تعار من اللیل، رقم الحدیث: 5061، ط: دار ابن حزم)
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَيْقَظَ مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ أَسْتَغْفِرُكَ لِذَنْبِي وَأَسْأَلُكَ رَحْمَتَكَ، اللَّهُمَّ زِدْنِي عِلْمًا، وَلَا تُزِغْ قَلْبِي بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنِي، وَهَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً، إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ .
سنن ابی داؤد: (باب ما يقول إذا أصبح، رقم الحديث: 5085، ط: دار ابن حزم)
حدثنا كثير بن عبيد، حدثنا بقية بن الوليد، عن عمر بن جعثم، قال: حدثني الأزهر بن عبد الله الحرازي، قال: حدثني شريق الهوزني، قال: دخلت على عائشة رضي الله عنها، فسألتها: بم كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يفتتح إذا هب من الليل؟ فقالت: لقد سألتني عن شيء ما سألني عنه أحد قبلك، كان إذا هب من الليل كبر عشرا، وحمد عشرا، وقال: «سبحان الله وبحمده عشرا» وقال: «سبحان الملك القدوس عشرا» واستغفر عشرا ، وهلل عشرا، ثم قال: «اللهم إني أعوذ بك من ضيق الدنيا، وضيق يوم القيامة عشرا» ثم يفتتح الصلاة۔
صحیح البخاری: (باب فضل من تعار من اللیل فصلی، رقم الحدیث: 1154، ط: دار الکتب العلمیۃ)
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ قَالَ: حَدَّثَنِي جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : مَنْ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي أَوْ دَعَا اسْتُجِيبَ لَهُ، فَإِنْ تَوَضَّأَ وَصَلَّى قُبِلَتْ صَلَاتُهُ.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی