resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: خواتین کے لیے یوٹیوب پر کوکنگ ویڈیوز بنانے اور چہرہ دکھانے کا شرعی حکم

(65736-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! محترم مفتی صاحب! امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ مجھے یوٹیوب چینل شروع کرنے کے حوالے سے شرعی رہنمائی درکار ہے۔
میں کھانے پکانے کی ویڈیوز بنانے، مختلف کھانوں کی ترکیبیں آزمانے اور کھانے پینے کی چیزوں کے ریویوز دینے کا ارادہ رکھتی ہوں، میں اپنی ویڈیوز میں ایک کتے کی شکل کے نرم کھلونے کو بطور کردار بھی استعمال کرنا چاہتی ہوں۔ میرا ارادہ ہے کہ میں مناسب حجاب پہنوں، شرعی پردے کا اہتمام کروں، ویڈیوز میں وائس اوور استعمال کروں اور گانوں سے اجتناب کروں۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا کسی مسلمان عورت کے لیے حجاب پہن کر اس طرح کی عوامی یوٹیوب ویڈیوز میں اپنا چہرہ دکھانا جائز ہے یا بہتر یہ ہے کہ وہ کیمرے کے سامنے اپنا چہرہ نہ دکھائے؟ میں چاہتی ہوں کہ میرا مواد اسلامی تعلیمات کے مطابق ہو، اس لیے آپ کی شرعی رہنمائی کی شکر گزار ہوں گی۔ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں اس مسئلے کی وضاحت فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً

جواب: شریعتِ مطہرہ میں پردے اور عفت کا اعلیٰ معیار یہ ہے کہ عورت اپنے گھر کے دائرے میں اس طرح رہے کہ بلا ضرورت نامحرموں کی نگاہ اس پر نہ پڑے اور نہ ہی بلاضرورت اس کی آواز سنیں۔اگر کوئی شدید معاشی مجبوری درپیش نہ ہو اور گزر اوقات کے جائز وسائل موجود ہوں تو یوٹیوب چینل شروع کرنے سے احتراز کرنا زیادہ بہتر اور محتاط طریقہ ہے، کیونکہ اس میں اندیشۂ فتنہ اور وقت کے ضیاع کا قوی امکان رہتا ہے، لیکن اگر واقعی اخراجات پورے کرنے کے لیے متبادل ذریعہ درکار ہو اور مالی مجبوری کا سامنا ہو تو کھانا پکانے، ترکیبیں سکھانے اور حلال اشیاء کے جائز ریویوز پر مشتمل چینل چلانے کی اجازت و گنجائش ہے، بشرطیکہ چند بنیادی شرائط کی سختی سے پابندی کی جائے۔
چینل اور ویڈیوز کے لیے ضروری شرائط:
اگر چینل بنانا ہو تو درج ذیل شرعی حدود کی پابندی لازم ہوگی:
• ویڈیو میں چہرہ یا جسم کسی بھی صورت ظاہر نہ ہو، کیمرے کا فوکس صرف اجزاء، برتنوں اور کھانا پکانے کے عمل تک محدود رکھا جائے، ہاتھوں کو چھپانے کے لیے دستانوں (gloves) کا استعمال کرنا بہتر اور قرینِ احتیاط ہے۔
• ضرورت کے تحت شائستہ اور باوقار انداز میں وائس اوور (Voice-over) کی جا سکتی ہے، لیکن گفتگو میں دانستہ نرمی، لوچ یا دل کشی پیدا کرنے سے مکمل پرہیز کیا جائے، جیسا کہ قرآنِ کریم میں غیر محرموں سے گفتگو کے آداب سکھائے گئے ہیں۔
• ویڈیوز میں پسِ منظر موسیقی یا گانوں کے استعمال سے مکمل اجتناب کیا جائے۔
• ویڈیو میں کسی جاندار کی شکل کے کھلونے، گڑیا یا کردار کو بطور معاون استعمال کرنے سے گریز کیا جائے۔
• چینل کا تمام مواد جھوٹ، مبالغہ آرائی اور کسی بھی غیر شرعی عنصر سے پاک ہو۔
اشتہارات (AdSense) کی آمدنی کا حکم
ویڈیوز پر یوٹیوب کی طرف سے چلنے والے اشتہارات کی کمائی درج ذیل شرائط کے ساتھ حلال ہو سکتی ہے:
1) اشتہار صرف شریعت کے مطابق جائز اور حلال کاروبار کا ہو، سودی اداروں، غیر اخلاقی ایپس، جوئے یا دیگر ناجائز کاروباروں کے اشتہارات کو مونیٹائزیشن کی سیٹنگز سے بلاک اور فلٹر کیا جائے۔
2) اشتہار بذاتِ خود بے پردگی، موسیقی یا دیگر خلافِ شرع عناصر پر مشتمل نہ ہو۔
3) احتیاط اور فلٹرنگ کے باوجود اگر کوئی ناجائز اشتہار چل جائے جس پر چینل کے مالک کی رضامندی نہ ہو تو ریویو سینٹر میں اشتہارات کا جائزہ لے کر ناجائز اشتہار سے حاصل ہونے والی متوقع آمدنی کا حساب لگا کر اسے ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کرنا واجب ہوگا۔
4) گوگل اور پلیٹ فارم کے ساتھ کیے گئے جائز معاہدات اور شرائط کی پاسداری کی جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

رد المحتار: (كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة، 406/1، ط: دار الفكر بيروت)
(قوله صوت المرأة عورة) أي مرادهم أنه عورة خارج الصلاة يخاف منه الفتنة ولذا قال في الحلية: ولا يخفى أن صوتها ليس بعورة في نفسه إذ لا يحرم استماعه عند الحاجة لكلامها لحاجة البيع والسؤال والأجوبة ونحوها، وإنما يمنع الاستماع لالتذاذ به لا لأنه عورة، ألا ترى أن أمهات المؤمنين كن يكلمن الرجال من وراء الحجاب، وكان الرجال يسألونهم عن أحكام الدين، وتسمع أصواتهن من غير نكير، وإنما المنهي عنه الخضوع بالقول والتنجيم والترجيع بالغناء، لما في ذلك من استمالة الرجال وتحريك الشهوات منهم.

بدائع الصنائع: (كتاب الاستحسان، فصل في بيان ما يحل للرجل نظره إلى المرأة، 121/5، ط: دار الكتب العلمية بيروت)
وأما النظر إلى وجهها وكفيها فليس بحرام، ولكن يكره لغير عذر لما روينا، إلا عند الحاجة بأن يكون قاضيا أو شاهدا أو خاطبا، لأنه لا يمكنه إقامة الحق بدون النظر إلى الوجه، وكذا الطبيب لأنه لا يمكنه المداواة بدون النظر إلى الموضع العليل.

رد المحتار: (كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة، 406/1، ط: دار الفكر بيروت)
(قوله صوت المرأة عورة) أي مرادهم أنه عورة خارج الصلاة يخاف منه الفتنة ولذا قال في الحلية: ولا يخفى أن صوتها ليس بعورة في نفسه إذ لا يحرم استماعه عند الحاجة لكلامها لحاجة البيع والسؤال والأجوبة ونحوها، وإنما يمنع الاستماع لالتذاذ به لا لأنه عورة، ألا ترى أن أمهات المؤمنين كن يكلمن الرجال من وراء الحجاب، وكان الرجال يسألونهم عن أحكام الدين، وتسمع أصواتهن من غير نكير، وإنما المنهي عنه الخضوع بالقول والتنجيم والترجيع بالغناء، لما في ذلك من استمالة الرجال وتحريك الشهوات منهم.

المبسوط للسرخسي: (210/1، ط: دار المعرفة - بيروت)
إنما المكروه تمثال ذي الروح، هكذا روي عن ابن عباس - رضي الله تعالى عنهما - أنه نهى مصورا عن التصوير فقال: كيف أصنع وهو كسبي قال: إن لم يكن بد فعليك بتمثال الأشجار، وإن عليا - رضي الله تعالى عنه - قال من صور تمثال ذي الروح كلف يوم القيامة أن ينفخ فيه الروح وليس بنافخ

الهداية شرح البداية: (كتاب الكراهية، فصل في اللبس، 357/4، ط: دار احياء التراث العربي بيروت)
ولا تجوز الإجارة على الملاهي والغناء؛ لأنه معصية، والأجرة على المعصية باطلة، ولا تجوز الاستئجار لنوح أو غناء أو ضرب دف أو مزمار.

والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Women's Issues