resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: خواتین کا مردانہ چپل یا بوٹ (Shoes) استعمال کرنے کا حکم

(63668-No)

سوال: حضرت مفتی صاحب! امید ہے کہ آپ خیر و عافیت کے ساتھ ہوں گے،آج کل یہ فیشن بن گیا ہے کہ خواتین گھروں میں اور اسکول و کالج کی لڑکیاں اسکول کالج جاتے ہوۓ نیز بازار میں بھی مَردوں کی طرح بوٹ پہنتی ہیں شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟ کیا یہ لعنت کی وعید میں داخل ہے؟

جواب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو عورتوں اور عورتوں کو مردوں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے، چنانچہ ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ‬ ؓ سے کہا گیا کہ (جو) عورت (مردوں کے لیے مخصوص) جوتا پہنتی ہے، (اس کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟) تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مردوں کی طرح بننے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔ (سنن ابی داؤد:4099)
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر بوٹ (Shoes) صرف مردوں کے لیے مخصوص ہوں اور عورت کا انہیں پہن کر مردوں کی مشابہت اختیار کرنا مقصود ہو تو عورت کے لیے ایسے بوٹ پہننا جائز نہیں ہے، البتہ جو بوٹ (Shoes) مرد و خواتین دونوں ہی کے لیے عام طور پر استعمال ہوتے ہوں اور مردوں کے ساتھ خاص نہ سمجھے جاتے ہوں تو عورت کے لیے ان کا پہننا جائز ہے۔
اسی طرح گھروں میں خواتین بعض اوقات بے دیہانی میں مردوں کی چپل وغیرہ پہن لیتی ہیں اور عموماً اس سے مردوں کی مشابہت مقصود نہیں ہوتی، اس لیے ان کے پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*سنن أبي داود: (رقم الحديث:4099)*
عن ‌ابن أبي مليكة قال: «قيل ‌لعائشة : إن امرأة تلبس النعل، فقالت: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الرجلة من النساء.»

*بذل المجهود في حل سنن أبي داود:(128/12،ط:مركز الشيخ أبي الحسن الندوي)*
(حدثنا محمد بن سليمان لوين) مصغرا (وبعضه) أي بعض الحديث (قرأت عليه، عن سفيان، عن ابن جريج، عن ابن أبي مليكة قال: قيل لعائشة) - رضي الله عنها -: (إن امرأة تلبس النعل) الذي يلبسه الرجال (فقالت: لعن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - الرجلة) بضم الجيم، وقال المنذري: بكسر الجيم (من النساء) وهي المترجلة، يقال: امرأة رجلة إذا تشبهت بالرجل في الزي، فأما في العلم والرأي فمحمود، ومنه أن عائشة كانت رجلة الرأي.

*مرقاة المفاتيح: (باب الترجل،2818/7، ط:دارالفكر)*
(والمترجلات) : بكسر الجيم المشددة أي "المتشبهات بالرجال (من النساء) : زيا وهيئة ومشية ورفع صوت ونحوها لا رأيا وعلما، فإن التشبه بهم محمود، كما روي أن عائشة -رضي الله عنها - كانت رجلة الرأي أي: رأيها كرأي الرجال على ما في النهاية. (وقال) : أي خطابا عاما (أخرجوهم من بيوتكم) : أي من مساكنكم ومن بلدكم، ففي شرح السنة: روي عن أبي هريرة «أن النبي صلى الله عليه وسلم أتي بمخنث قد خضب يديه ورجليه بالحناء، فأمر به فنفي إلى البقيع» ، ففي شرعة الإسلام الحناء سنة للنساء، ويكره لغيرهن من الرجال إلا أن يكون لعذر لأنه تشبه بهن اه."

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Women's Issues