عنوان: شوہر کی وفات کے بعد بیوہ کا اس کی طرف اپنی طرف نسبت کرنے اور اس کے بارے میں تصور اور خیال کرنے کا حکم(106686-No)

سوال: مفتی صاحب ! شوہر کے انتقال کے بعد جب عورت عدت مکمل کر لیتی ہے، تو اب وہ شوہر کے نکاح میں ہوتی ہے یا نہیں؟ اگر وہ دوسرا نکاح نہیں کرتی، تو اپنے نام کے ساتھ اہلیہ لکھ سکتی ہے؟ نیز کیا عدت کے بعد شوہر کا تصور اور خیال لا سکتی ہے؟

جواب: واضح رہے کہ عدت کے بعد نکاح ختم ہوجاتا ہے٬ اس لئے شوہر کی وفات اور عدت کے بعد بیوہ٬ مرحوم کی بیوی نہیں رہتی٬ لیکن مذکورہ صورت میں جب بیوہ نے دوسرا نکاح نہیں کیا٬ تو سابقہ نسبت کو برقرار رکھنے اور تعارف کے طور پر مرحوم شوہر کی طرف نسبت کرکے اہلیہ سیف الرحمٰن لکھنا جائز ہے٬ نیز شوہر کی وفات کے بعد شرعی حدود میں رہتے ہوئے٬ اس کا تصور اور خیال کرنا شرعاً ممنوع نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لما فی صحيح البخاري:

"عن عائشة رضي الله عنها، قالت: ما غرت على أحد من نساء النبي صلى الله عليه وسلم، ما غرت على خديجة، وما رأيتها، ولكن كان النبي صلى الله عليه وسلم يكثر ذكرها، وربما ذبح الشاة ثم يقطعها أعضاء، ثم يبعثها في صدائق خديجة، فربما قلت له: كأنه لم يكن في الدنيا امرأة إلا خديجة، فيقول «إنها كانت، وكانت، وكان لي منها ولد»

(رقم الحدیث:3818)


واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 227
shouhar ki wafat kay baad bewah ka uski taraf apni taraf nisbat karne or us k baray mai taswwur or khayal karne ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Iddat(Period of Waiting)

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © AlIkhalsonline 2021.