سوال:
مفتی صاحب ! سنا ہے کہ قیامت کے دن مساکین امیروں سے پہلے جنت میں جائیں گے، تو کل قیامت میں مساکین کے ساتھ حشر ہونے کی دعا بتادیں۔
جواب: قیامت میں مساکین کے ساتھ حشر ہونے کی دعا
اَللّٰهُمَّ أَحْيِنِي مِسْكِينًا وَأَمِتْنِي مِسْكِينًا وَاحْشُرْنِي فِي زُمْرَةِ الْمَسَاكِينِ يَوْمَ القِيَامَةِ
ترجمہ: اے ﷲ! مجھے مسکینی کی حالت میں زندہ رکھ، اور مسکینی کی حالت میں موت دے، اور قیامت کے دن مجھے مساکین کی جماعت میں اٹھا۔
(جامع الترمذي، باب ما جاء أن فقراء المهاجرين يدخلون الجنة قبل أغنيائهم، رقم الحديث: 2352)
فضیلت: حدیث شریف میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺنے یہ دعا مانگی، تو ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا نے دریافت کیا کہ اللہ کے رسول! ایسا کیوں؟ آپﷺ نے فرمایا: اس لیے کہ مساکین جنت میں اغنیاء سے چالیس سال پہلے داخل ہوں گے، لہٰذا اے عائشہؓ!کسی بھی مسکین کو دروازے سے واپس نہ کرو، اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ دو، عائشہ! مسکینوں سے محبت کرو اور ان سے قربت اختیار کرو، بیشک اللہ تعالیٰ تم کو قیامت کے دن اپنے سے قریب کرے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
سنن الترمذی: (باب ما جاء أن فقراء المهاجرين يدخلون الجنة قبل أغنيائهم، رقم الحديث: 2352، ط: دار الحدیث)
حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ وَاصِلٍ الكُوفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ العَابِدُ الكُوفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الحَارِثُ بْنُ النُّعْمَانِ اللَّيْثِيُّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اَللّٰهُمَّ أَحْيِنِي مِسْكِينًا وَأَمِتْنِي مِسْكِينًا وَاحْشُرْنِي فِي زُمْرَةِ الْمَسَاكِينِ يَوْمَ القِيَامَةِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لِمَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: إِنَّهُمْ يَدْخُلُونَ الجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا، يَا عَائِشَةُ لاَ تَرُدِّي الْمِسْكِينَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، يَا عَائِشَةُ أَحِبِّي الْمَسَاكِينَ وَقَرِّبِيهِمْ فَإِنَّ اللَّهَ يُقَرِّبُكِ يَوْمَ القِيَامَةِ.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی