عنوان: لڑنے والوں کو چھڑانے کی خاطر مسجد سے باہر نکلنے سے اعتکاف کا حکم(106961-No)

سوال: میں مسجد میں رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف میں بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک مسجد کے باہر سے شور کی آوازیں سنائی دیں، میں نے مسجد کی کھڑکی سے جھانک کر دیکھا، تو دو لوگ آپس میں لڑ رہے تھے، جب لڑائی زیادہ ہوگئی، تو مجھ سے صبر نہ ہوسکا اور میں بھولے سے مسجد سے باہر چھڑانے کی غرض سے نکل گیا، اور بعد میں اعتکاف کا یاد آیا، تو فوراََ مسجد میں آگیا، آپ سے سوال یہ ہے کہ کیا میرا اعتکاف ٹوٹ گیا؟

جواب: واضح رہے کہ بلا عذرِ طبعی و شرعی مسجد سے باہر نکلنے سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے اور لڑنے والوں کو چھڑانا عذرِ طبعی و شرعی میں داخل نہیں ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں مسجد سے باہر نکلنے سے آپ کا اعتکاف ٹوٹ گیا اور اب آپ پر روزہ رکھنے کے ساتھ ایک دن رات اعتکاف کی قضا لازم ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی الشامیۃ:

وعلى كل فيظهر من بحث ابن الهمام لزوم الاعتكاف المسنون بالشروع۔۔۔۔۔۔اما على قول غيره فيقضي اليوم الذي أفسده لاستقلال كل يوم بنفسه۔۔الخ

(ج: 2، ص: 444، ط: دار الفکر)

وفی الھندیۃ:

(وأما مفسداته) فمنها الخروج من المسجد فلا يخرج المعتكف من معتكفه ليلا ونهارا إلا بعذر، وإن خرج من غير عذر ساعة فسد اعتكافه في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - كذا في المحيط. سواء كان الخروج عامدا أو ناسيا هكذا في فتاوى قاضي خان.

(ج: 1، ص: 212، ط: دار الفکر)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 190
larnay walo ko churanay ki khaatir masjid se bahar nikalnay say aetikaf ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Aitikaf

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com