عنوان: سود کی رقم کو اپنی رقم سے تبدیل کرکے اپنی رقم قربانی میں استعمال کرنا(6982-No)

سوال: السلام علیکم ! حضرت جی ! عمیر کا بھائی سودی بینک میں کام کرتا ہے، عمیر قربانی میں بھائی کا حصہ ملانے پر مجبور ہے، ورنہ گھر میں لڑائی وغیرہ ہوگی تو کیا عمیر اپنے بھائی سے حصے کے پیسے لیکر اپنی جیب میں رکھ لے اور اتنے ہی پیسے بھائی کے حصے کے لیے اپنے ملا لے یعنی بس پیسوں کی تبدیلی کرلے، تو کیا ایسا کرنا درست ہوگا یا نہیں؟

جواب: سود کی رقم کو اپنی رقم سے تبدیل کرنے سے سودی رقم کا استعمال جائز نہیں ہوجاتا، بلکہ سودی رقم کا حکم یہ ہے کہ اسے اصل مالک کی طرف لوٹا دیا جائے٬ اور اگر اصل مالک معلوم نہ ہو، تو اسے ثواب کی نیت کیے بغیر غرباء وفقراء میں تقسیم کردیا جائے، لہذا آپ کے لئے سودی رقم کو اپنی رقم سے تبدیل کرنا جائز نہیں ہے۔
البتہ اگر آپ اپنے بھائی کو حلال رقم قرض کے طور پر دے دیں، یا وہ کسی اور ذرائع سے حلال رقم کا بندوبست کرلے، تو ایسی صورت میں اسے اجتماعی قربانی میں شامل کرنا جائز ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

رد المحتار: (باب البیع الفاسد، مطلب: فیمن ورث مالا حراماً، 99/5، ط: دار الفکر)
والحاصل أن علم أرباب الأموال وجب ردہ علیہم، وإلا فإن علم عین الحرام لا یحل لہ ویتصدق بہ بنیۃ صاحبہ۔

و فیہ ایضا: (145/5)
لأن تبدل الملك كتبدل العين۔

الهندية: (304/5، ط: دار الفکر)
" وإن كان كل واحد منهم صبياً أو كان شريك السبع من يريد اللحم أو كان نصرانياً ونحو ذلك لايجوز للآخرين أيضاً، كذا في السراجية. ولو كان أحد الشركاء ذمياً كتابياً أو غير كتابي وهو يريد اللحم أو يريد القربة في دينه لم يجزئهم عندنا؛ لأن الكافر لايتحقق منه القربة، فكانت نيته ملحقةً بالعدم، فكأنه يريد اللحم، والمسلم لو أراد اللحم لايجوز عندنا".

الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ: (249/23، ط: دار السلاسل)
والمال الحرام كله خبث لا يطهر، والواجب في المال الحرام رده إلى أصحابه إن أمكن معرفتهم وإلا وجب إخراجه كله عن ملكه على سبيل التخلص منه لا على سبيل التصدق به، وهذا متفق عليه بين أصحاب المذاهب.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 1048 Mar 02, 2021
sood ki raqam ko apni raqam say tabdeel kar kay apni raqam qurbani mai istimaal karna, Replacing the interest amount with own money and using own money in sacrifice

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Qurbani & Aqeeqa

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.