عنوان: جس مسجد میں کچھ نمازیں باجماعت ہوتی ہوں اور کچھ نہ ہوں وہاں اعتکاف کرنے٬ اور معتکف کیلئے جماعت کے ساتھ نماز اور تراویح پڑھنے کیلئے دوسری مسجد جانے کا حکم(107010-No)

سوال: مفتی صاحب ! ہمارے محلے میں دو مساجد ہیں، ایک مسجد میں ہم رمضان میں ظہر اور عصر کی نماز ادا کرتے ہیں، جبکہ فجر، مغرب، عشاء اور تراویح دوسری مسجد میں ادا کرتے ہیں، جوکہ وسیع ہے، وہاں گرمی نہیں ہوتی اور پانی کا بھی انتظام ہوتا ہے۔ تو کیا اس صورت میں معتکف جو کہ پہلی مسجد میں اعتکاف کے لیے بیٹھے ہیں، (جہاں دو نمازیں ادا کرتے ہیں)، باقی نمازوں اور تراویح کے لیے دوسری مسجد جا سکتے ہیں؟ جیسا کہ ہمارے محلے والوں کا کئی مہینوں سے طریقہ یہ چلا آرہا ہے۔ استدلال میں فتاوی حقانیہ جلد نمبر 4 میں اعتکاف کے مسائل میں درج فتوی کو بنا بر ضرورت پیش کرتے ہیں۔ جبکہ دوسرے محلے کے عالم اس کو ضرورت نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ فتاوی حقانیہ کا فتوی ان کی اپنی رائے ہوسکتی ہے، کیونکہ یہ قاعدہ کے خلاف ہے۔ برائے مہربانی آپ اس مسئلہ میں رہنمائی فرما دیں۔

جواب: واضح رہے کہ مسنون اعتکاف میں شرعی یا طبعی ضرورت و حاجت کے بغیر مسجد سے باہر نکلنا جائز نہیں ہے٬ اس سے اعتکاف ٹوٹ جائے گا٬ اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا چونکہ سنت موکدہ ہے٬اور واجب کے قریب ہے، احادیث مبارکہ میں جماعت سے نماز نہ پڑھنے پر بہت سخت وعیدیں آئی ہیں٬ جس کی وجہ سے فقہاء کرام نے ترک جماعت پر اصرار کو گناہ کبیرہ قرار دیا گیا ہے٬ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت سے نماز پڑھنا ایک شرعی ضرورت ہے٬ اس لئے اس مقصد کیلئے اعتکاف کی جگہ سے باہر نکلنا جائز ہے٬ لہذا اس سلسلے میں فتاوی حقانیہ میں ذکر کردہ مسئلہ درست ہے۔

جہاں تک معتکف کا تراویح پڑھنے کیلئے دوسری مسجد جانے کا تعلق ہے٬ تو اس کا حکم یہ ہے کہ نفس تراویح پڑھنا سنت موکدہ علی العین ہے٬ جبکہ تراویح کی جماعت سنت موکدہ علی الکفایہ ہے٬ چنانچہ اگر محلہ کے چند افراد جماعت سے تراویح پڑھ لیں٬ تو باقی اہل محلہ کی طرف سے جماعت کی سنت ادا ہوجائے گی٬ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تراویح کی جماعت شرعی ضرورت میں داخل نہیں ہے٬ (جیساکہ نماز جنازہ فرض علی الکفایہ ہے٬ اس کیلئے معتکف باہر نہیں جاسکتا٬ تو سنت کفایہ کیلئے کی ادائیگی کیلئے نکلنا٬ بطریق اولی ممنوع ہوگا٬) لہذا مذکورہ صورت میں اگر اعتکاف والی مسجد میں باجماعت تراویح کا انتظام نہ ہوسکے٬ تو معتکف کا اس مقصد کیلئے دوسری مسجد جانا شرعا درست نہیں ہے٬ لہذا وہ تراویح کی نماز اپنے اعتکاف والی مسجد میں ہی ادا کرے گا۔

نیز بہتر یہ ہے کہ اعتکاف ایسی مسجد میں کیا جائے٬ جہاں کم از کم اعتکاف کے دنوں میں پانچوں وقت کی نماز جماعت سے ہوتی ہو٬ جس مسجد میں اعتکاف کے دنوں میں بھی پانچوں وقت کی جماعت نہ ہوتی ہو٬ وہاں اعتکاف کے سلسلے میں علماء کرام کی مختلف آراء ہیں٬ تاہم محققین کے نزدیک ایسی مسجد میں بھی اعتکاف ہوسکتا ہے٬اگرچہ افضل نہیں ہے٬ لہذا مذکورہ مسجد میں اعتکاف کرنے کی گنجائش ہے٬ نیز وہاں کوشش کرکے اعتکاف کے دنوں میں باقی نمازوں کی جماعت کا بھی انتظام کرنا چاہئے٬ لیکن اگر کوئی انتظام نہ ہوسکے٬ تو ایسی صورت میں باقی نمازیں جماعت کے ساتھ پڑھنے کیلئے٬ قریبی مسجد میں جانا جائز ہے٬ البتہ نماز سے فارغ ہوتے ہی اپنے اعتکاف والی مسجد میں واپس آنا ضروری ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لما فی مراقي الفلاح:

"ولا يخرج منه" أي من معتكفه فيشمل المرأة المعتكفة بمسجد بيتها "إلا لحاجة شرعية" كالجمعة والعيدين فيخرج في وقت يمكنه إدراكها مع صلاة سنتها قبلها ثم يعود، وإن أتم اعتكافه في الجامع صح وكره "أو" حاجة "طبيعية" كالبول والغائط وإزالة نجاسة واغتسال من جنابة باحتلام؛ لأنه عليه السلام كان لايخرج من معتكفه إلا لحاجة الإنسان "أو" حاجة "ضرورية كانهدام المسجد"
(حاشية الطحطاوي علي مراقي الفلاح، باب الاعتكاف، ١/ ٧٠٢)

وفی الفتتاوی الہندیة:

"(وَأَمَّا مُفْسِدَاتُهُ) فَمِنْهَا الْخُرُوجُ مِنْ الْمَسْجِدِ، فَلَايَخْرُجُ الْمُعْتَكِفُ مِنْ مُعْتَكَفِهِ لَيْلًا وَنَهَارًا إلَّا بِعُذْرٍ، وَإِنْ خَرَجَ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ سَاعَةً فَسَدَ اعْتِكَافُهُ فِي قَوْلِ أَبِي حَنِيفَةَ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى - كَذَا فِي الْمُحِيطِ"
( کتاب الصوم، الْبَابُ السَّابِعُ فِي الِاعْتِكَافِ، ١/ ٢١٢)

وفی الدر المختار مع الرد:

''(والجماعة فيها سنة على الكفاية) في الأصح، فلو تركها أهل مسجد أثموا إلا لو ترك بعضهم''۔

(قوله: والجماعة فيها سنة على الكفاية إلخ) أفاد أن أصل التراويح سنة عين، فلو تركها واحد كره، بخلاف صلاتها بالجماعة فإنها سنة كفاية، فلو تركها الكل أساءوا؛ أما لو تخلف عنها رجل من أفراد الناس وصلى في بيته فقد ترك الفضيلة، وإن صلى أحد في البيت بالجماعة لم ينالوا فضل جماعة المسجد، وهكذا في المكتوبات، كما في المنية، وهل المراد أنها سنة كفاية لأهل كل مسجد من البلدة أو مسجد واحد منها أو من المحلة؟ ظاهر كلام الشارح الأول. واستظهر ط الثاني. ويظهر لي الثالث، لقول المنية: حتى لو ترك أهل محلة كلهم الجماعة فقد تركوا السنة وأساءوا"
(2/ 45، باب الوتر والنوافل، ط: سعید)

وفیہ ایضا:

ھو) لغۃ اللبث وشرعا (لبث) بفتح اللام وتضم المکث (ذکر) ولو ممیزا فی (مسجد جماعۃ) ھو مالہ امام ومؤذن ادیت فیہ الخمس اولاو عن الامام اشتراط اداء الخمس فیہ وصححہ بعضھم وقال لایصح فی کل مسجد وصححہ السروجی واما الجامع فیصح فیہ مطلقا اتفاقا۔
وفی الشامیۃ: (قولہ أدیت فیہ الخمس أولا) صرح بھذا الا طلاق فی العنایۃ وکذا فی النھر وعزاہ الشیخ اسمعیل الی الفیض والبزازیۃ وخزانۃ الفتاویٰ والخلاصۃ وغیرھا۔ ویفھم ایضا وان لم یصرح بہ من تعقیبہ بالقول الثانی ھنا تبعا للھدایۃ فافھم(قولہ وصححہ بعضھم) نقل تصحیحہ فی البحر عن ابن الھمام (قولہ وصححہ السروجی) وھو اختیار الطحاوی قال الخیر الرملی وھو أیسر خصوصا فی زماننا فینبغی أن یعول علیہ واللہ تعالیٰ اعلم۔
(440/2 کتاب الصوم ط: سعید)

کذا فی تبویب جامعہ دارالعلوم کراچی: (7/1836)

کذا فی احکام اعتکاف: (ص 30 ط. مکتبہ دارالعلوم کراچی)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 173
jis masjid mai kuch namazain baa jamat hoti hon or kuch na hoti hon wahan aetikaaf kartay or mutakif k liye jamaat kay sath namaz or taraweeh parhne kay liye doosri masjid janay ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Aitikaf

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © AlIkhalsonline 2021.