عنوان: عہد نامہ قبر میں رکھنے کا حکم(107020-No)

سوال: مفتی صاحب ! کچھ لوگ میت دفناتے وقت قبر میں عہد نامہ رکھتے ہیں، اس کی شرعی حیثیت بتادیں۔

جواب: قبر میں میت کے ساتھ عہد نامہ رکھنا، جس میں کلمہ طیبہ اور بعض آیات قرآنیہ وغیرہ لکھی ہوتی ہیں، جائز نہیں ہے، کیونکہ اس میں اللہ تعالی کے مبارک نام اور قرآنی آیتوں کی بے حرمتی لازم آتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

قال فی الشامیۃ:

وَقَدْ أَفْتَى ابْنُ الصَّلَاحِ بِأَنَّهُ لَا يَجُوزُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَى الْكَفَنِ يس وَالْكَهْفُ وَنَحْوُهُمَا خَوْفًا مِنْ صَدِيدِ الْمَيِّتِ وَالْقِيَاسُ الْمَذْكُورُ مَمْنُوعٌ لِأَنَّ الْقَصْدَ ثَمَّ التَّمْيِيزُ وَهُنَا التَّبَرُّكُ، فَالْأَسْمَاءُ الْمُعَظَّمَةُ بَاقِيَةٌ عَلَى حَالِهَا فَلَا يَجُوزُ تَعْرِيضُهَا لِلنَّجَاسَةِ، وَالْقَوْلُ بِأَنَّهُ يُطْلَبُ فِعْلُهُ مَرْدُودٌ لِأَنَّ مِثْلَ ذَلِكَ لَا يُحْتَجُّ بِهِ إلَّا إذَا صَحَّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَلَبُ ذَلِكَ وَلَيْسَ كَذَلِك۔

وفیہ ایضاً:

اﻟﺪﺭاﻫﻢ ﻭاﻟﻤﺤﺎﺭﻳﺐ ﻭاﻟﺠﺪﺭاﻥ ﻭﻣﺎ ﻳﻔﺮﺵ، ﻭﻣﺎ ﺫاﻙ ﺇﻻ ﻻﺣﺘﺮاﻣﻪ، ﻭﺧﺸﻴﺔ ﻭﻃﺌﻪ ﻭﻧﺤﻮﻩ ﻣﻤﺎ ﻓﻴﻪ ﺇﻫﺎﻧﺔ ﻓﺎﻟﻤﻨﻊ ﻫﻨﺎ ﺑﺎﻷﻭﻟﻰ ﻣﺎ ﻟﻢ ﻳﺜﺒﺖ ﻋﻦ اﻟﻤﺠﺘﻬﺪ ﺃﻭ ﻳﻨﻘﻞ ﻓﻴﻪ ﺣﺪﻳﺚ ﺛﺎﺑﺖ ﻓﺘﺄﻣﻞ.

(ج2، ص246/ 247، دارالفکر، بیروت)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Views: 112

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Funeral & Jinaza

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com