resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: شب براءت میں آتش بازی کرنا

(7177-No)

سوال: میرا ایک دوست شبِ براءت میں آتش بازی کرتا ہے، اس کو بہت سمجھایا ہے، لیکن وہ نہیں سمجھتا، معلوم یہ کرنا ہے کہ اس کا اس رات آتش بازی کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب: واضح رہے کہ شب برات میں آتش بازی کرنےکی شرعاً کوئی حقیقت نہیں ہے، کیونکہ آتش بازی کرنا اسراف میں داخل ہونے کی وجہ سے شرعا ناجائز فعل ہے، اور اگر کوئی اسے اس رات ثواب سمجھ کر کر ےتو یہ بدعت میں بھی شمار ہوگا، لہذا اس سے اجتناب کرنا لازم ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (الاسراء، الآیۃ: 27)
إِنَّ الْمُبَذِّرِيْنَ كَانُوْا إِخْوَانَ الشَّيٰطِيْنِ....الخ

البحر الرائق: (215/5)
وفی القنیۃ واسراج السرج الکثیرۃ فی السکک والاسواق لیلۃ البراءۃ بدعۃ۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

aatish baazi ko sawab samjh kar karne ka hukum, The order / ruling to do fireworks as a virtu / reward / sawab

شبِ براءت ایک بابرکت رات ہے جس میں عبادت، دعا اور استغفار کی ترغیب دی گئی ہے، لیکن اس رات آتش بازی کرنا، پٹاخے جلانا یا شور و ہنگامہ کرنا شریعتِ اسلامیہ میں ثابت نہیں۔ علماءِ کرام کے مطابق آتش بازی فضول خرچی، ایذاءِ مسلمین اور بعض اوقات جانی و مالی نقصان کا سبب بنتی ہے، جو شرعاً گناہ کے دائرے میں آتی ہے۔ اس رات کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع، توبہ اور خاموش عبادت ہے، نہ کہ خوشی کے نام پر غیر شرعی رسومات کو فروغ دینا۔ شبِ براءت میں آتش بازی نہ صرف عبادت کے ماحول کو خراب کرتی ہے بلکہ پڑوسیوں، مریضوں اور بچوں کے لیے تکلیف کا باعث بنتی ہے۔ لہٰذا مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اس رات کو بدعات اور ناجائز اعمال سے بچاتے ہوئے سنت کے مطابق گزاریں۔

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Bida'At & Customs