عنوان: بیماری میں مبتلاء شخص کے لیے روزہ رکھنے کا حکم(107214-No)

سوال: میری بہن کے گردوں میں درد ہوتا ہے، کافی علاج کرایا ہے، لیکن فائدہ نہیں ہوا، ۱۵ شعبان کا روزہ رکھا تھا، جس سے بہت تکلیف ہوئی، اگر وہ پانی کم پیے تو گردوں میں درد شروع ہو جاتا ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ رمضان آنے والا ہے اور انہوں نے روزے رکھنے کا ارادہ بھی کیا ہے، لیکن اگر تکلیف کا یہ سلسلہ جاری رہا تو وہ کیا کرے، روزے رکھے یا نہ رکھے؟

جواب: اگر روزے کی وجہ سے کسی مریض کی طبیعت زیادہ خراب ہونے کا قوی تر اندیشہ ہو اور ماہر دین دار ڈاکٹر بھی روزہ چھوڑنے کا مشورہ دے، تو ایسی صورت میں مریض کے لیے روزہ چھوڑنے کی گنجائش ہے اور صحت یاب ہونے کے بعد اس کی قضا لازم ہوگی، اگر مرض دائمی ہو اور صحت یابی کی امید نہ ہو، تو ہر روزے کے بدلے میں ایک صدقہ فطر کی مقدار فدیہ (پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت) کسی مستحق زکوٰۃ کو دینا لازم ہو گا۔

واضح رہے کہ فدیہ دینے کے بعد اگر عمر کے کسی حصہ میں یہ مریض صحت یاب ہو جاتا ہے تو فدیہ دینے کے باوجود اس روزہ کی قضاء کرنی ہوگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

قال اللہ تعالیٰ:

فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَّرِیْضاً اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ
( البقرة :184)

کذا فی الدر مع الرد:

فصل فی العوارض المبیحہ لعدم الصوم۔۔۔۔۔۔۔او مریض خاف الزیادۃ لمرضہ وصحیح خاف المرض۔۔۔۔۔الخ
او مریض خاف الزیادۃ او ابطاء البرء او فساد عضو۔۔۔۔۔الخ

(ج2، ص422، دارالفکر بیروت)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Views: 35

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Sawm (Fasting)

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com